المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
208. عوف بن الحارث بن الطفيل، عن المسور بن مخرمة
عوف بن حارث بن طفیل کی سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 17161
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ طُفَيْلٍ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا -، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعٍ أَوْ عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ عَائِشَةُ: وَاللهِ لَتَنْتَهِيَنَّ عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: هُوَ قَالَ هَذَا؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَهُوَ لِلَّهِ نَذْرٌ أَنْ لَا أُكَلِّمَ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَلِمَةً أَبَدًا، فَاسْتَشْفَعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِلَيْهَا حِينَ طَالَتْ هِجْرَتُهَا إِيَّاهُ، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَا أُشَفِّعُ فِيهِ أَحَدًا أَبَدًا، وَلَا أَحْنَثُ نَذْرِي الَّذِي نَذَرْتُ أَبَدًا، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ عَلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ كَلَّمَ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ - وَهُمَا مِنْ بَنِي زُهْرَةَ - فَقَالَ لَهُمَا: أَنْشُدُكُمَا اللهَ إِلَّا أَدْخَلْتُمَانِي عَلَى عَائِشَةَ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَنْذِرَ قَطِيعَتِي، فَأَقْبَلَ بِهِ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ مُشْتَمِلَيْنِ عَلَيْهِ بِأَرْدِيَتِهِمَا حَتَّى اسْتَأْذَنَا عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَا: السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ وَرَحْمَةُ اللهِ، أَنَدْخُلُ؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: ادْخُلُوا، قَالُوا: كُلُّنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَتْ: نَعَمِ ادْخُلُوا كُلُّكُمْ - وَلَا تَعْلَمُ عَائِشَةُ أَنَّ مَعَهُمَا ابْنَ الزُّبَيْرِ - فَلَمَّا دَخَلُوا دَخَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ الْحِجَابَ فَاعْتَنَقَ عَائِشَةَ وَطَفِقَ يُنَاشِدُهَا وَيَبْكِي، وَطَفِقَ الْمِسْوَرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ يُنَاشِدَانِ عَائِشَةَ إِلَّا مَا كَلَّمَتْهُ وَقَبِلَتْ مِنْهُ، وَيَقُولَانِ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ الْهِجْرَةِ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ» ، فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَى عَائِشَةَ التَّذْكِرَةَ، وَالتَّحْرِيجِ طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمْ وَتَبْكِي وَتَقُولُ: إِنِّي قَدْ نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهَا حَتَّى كَلَّمْتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ فَأَعْتَقَتْ فِي نَذْرَهَا أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، ثُمَّ كَانَتْ تَذْكُرُ نَذْرَهَا ذَلِكَ بَعْدَمَا أَعْتَقَتْ أَرْبَعِينَ رَقَبَةً، وَتَبْكِي حَتَّى تَبُلَّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا
عوف بن حارث بن طفیل رحمہ اللہ، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مادری بھتیجے تھے، بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا: سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ایک خرید و فروخت یا عطیے کے بارے میں، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دیا تھا، کہا: اللہ کی قسم! عائشہ ضرور باز آ جائیں گی، ورنہ میں ان پر پابندی لگا دوں گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا اس نے ایسا کہا ہے؟ لوگوں نے کہا: ہاں۔ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو یہ اللہ کے لیے نذر ہے کہ میں ابن زبیر سے کبھی کوئی بات نہیں کروں گی۔ جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا یہ بائیکاٹ طویل ہو گیا تو انہوں نے سفارش کرانی چاہی، مگر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! میں کبھی کسی کی سفارش قبول نہیں کروں گی، اور نہ اپنی اس نذر کو، جو میں نے مانی ہے، کبھی توڑوں گی۔ جب یہ معاملہ ابن زبیر پر طویل ہو گیا تو انہوں نے سیدنا مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن اسود بن عبد یغوث رضی اللہ عنہما سے بات کی - اور یہ دونوں بنو زہرہ سے تھے - اور ان سے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس لے چلو، کیونکہ ان کے لیے میرا بائیکاٹ کرنے کی نذر ماننا جائز نہیں۔ چنانچہ سیدنا مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمن بن اسود رضی اللہ عنہما، ابن زبیر کو اپنی چادروں میں لپیٹ کر لے چلے، یہاں تک کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اندر آنے کی اجازت مانگی اور کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو، کیا ہم اندر آ سکتے ہیں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آ جاؤ۔ انہوں نے کہا: اے ام المؤمنین! کیا ہم سب؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہاں، تم سب اندر آ جاؤ - جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے ساتھ ابن زبیر بھی ہیں۔ جب وہ داخل ہوئے تو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما پردے میں داخل ہوئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے لپٹ گئے، اور ان سے التجا کرنے اور رونے لگے، اور سیدنا مسور اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہما بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے التجا کرنے لگے کہ آپ ان سے بات کر لیں اور انہیں معاف کر دیں، اور کہنے لگے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہجر سے منع فرمایا ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے، کیونکہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔“ جب انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بار بار یاد دلایا اور خوف دلایا تو وہ بھی انہیں یاد دلانے اور رونے لگیں اور کہنے لگیں: میں نے نذر مانی تھی، اور نذر بہت سخت چیز ہے، تو وہ برابر ان سے اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے بات کر لی اور اپنی نذر میں چالیس غلام آزاد کیے، پھر وہ چالیس غلام آزاد کرنے کے بعد بھی اپنی اس نذر کو یاد کرتیں اور روتیں یہاں تک کہ ان کے آنسو ان کی اوڑھنی کو بھگو دیتے۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الميم/حدیث: 17161]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 20، صفحہ 22، حدیث 25»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 17161 in Urdu