🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
48. وما أسند جابر بن عتيك
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ کی مرویات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1766
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَبُو أُمِّهِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللهِ بْنَ ثَابِتٍ، فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ فَصَاحَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُجِبْهُ فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «غُلِبْنَا عَلَيْكَ يَا أَبَا الرَّبِيعِ» فَصَاحَ النِّسْوَةُ وَبَكَيْنَ فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَتْ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ» ، قَالُوا: وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «إِذَا مَاتَ» قَالَتِ ابْنَتُهُ: وَاللهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا، فَإِنَّكَ قَدْ كُنْتَ قَضَيْتَ جِهَازَكَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى نِيَّتِهِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ؟» قَالُوا: الْقَتْلَ فِي سَبِيلِ اللهِ، قَالَ: «الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللهِ، الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرِيقِ شَهِيدٌ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمَعٍ شَهِيدٌ»
سیدنا جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ مرض کی شدت سے مغلوب ہو چکے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکارا، مگر انہوں نے جواب نہ دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنَّا لِلّٰہ پڑھا اور فرمایا: ”اے ابوربیع، ہم تمہارے معاملے میں مغلوب ہوگئے (یعنی تقدیر غالب آگئی)“، تو عورتیں چیخنے اور رونے لگیں، تو ابن عتیک انہیں خاموش کرانے لگے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو، لیکن جب موت واقع ہوجائے تو کوئی رونے والی نہ روئے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ، واجب ہونے سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”جب وہ مر جائے“۔ ان کی بیٹی نے کہا: اللہ کی قسم، میں تو امید رکھتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے، آپ تو (جہاد کے لیے) اپنا سامان تیار کر چکے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے اس کا اجر اس کی نیت پر رکھ دیا ہے، اور تم شہادت کسے سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: اللہ کی راہ میں قتل ہونا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں قتل ہونے کے علاوہ شہادت سات قسم کی ہے: طاعون سے مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، ذات الجنب سے مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، آگ میں جلنے والا شہید ہے، ملبے تلے دب کر مرنے والا شہید ہے، اور وہ عورت جو زچگی کی حالت میں مرے وہ شہید ہے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 1766]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 191، حدیث 1779»

Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 1766 in Urdu