المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. عمرو بن ثابت، عن سماك
عمرو بن ثابت کی سماک سے روایات
حدیث نمبر: 2038
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ النَّاسَ جَالِسًا فَكَذِّبْهُ، قَالَ جَابِرٌ: وَأَنَا شَاهِدٌ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ خِطْبَةَ الْآخِرَةِ، قَالَ: فَقُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ خُطْبَتُهُ؟ قَالَ: «كَلَامًا يَعِظُ بِهِ النَّاسَ وَيَقْرَأُ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ وَكَانَتْ قَصْدًا وَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا بِنَحْوٍ مِنَ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ إِلَّا صَلَاةَ الْغَدَاةِ وَصَلَاةَ الظُّهْرِ، فَإِنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَ الْإِقَامَةَ قَلِيلًا وَرُبَّمَا عَجَّلَهَا، فَأَمَّا الْأَذَانُ فَلَا يَخْرِمُ عَنِ الْوَقْتِ، وَالْعَصْرَ نَحْوًا مِمَّا تُصَلُّونَ، وَالْمَغْرِبَ نَحْوًا مِمَّا تُصَلُّونَ، وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ يُؤَخِّرُهَا عَنْ صَلَاتِكُمْ قَلِيلًا»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو شخص تمہیں یہ بتائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھ کر لوگوں کو خطبہ دیتے تھے تو اسے جھٹلا دو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: اور میں خود گواہ ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ کیسا ہوتا تھا؟ انہوں نے کہا: ”وہ ایسا کلام ہوتا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نصیحت کرتے اور کتاب اللہ کی آیات پڑھتے، اور وہ میانہ روی پر ہوتا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بھی میانہ روی پر ہوتی، تقریباً سورۃ ”والشمس وضحاھا“ اور سورۃ ”والسماء والطارق“ جتنی، سوائے فجر اور ظہر کی نماز کے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سورج ڈھلتے ہی اذان دیتے تھے، اور بسا اوقات اقامت میں تھوڑی تاخیر کر دیتے اور بسا اوقات جلدی کر دیتے، لیکن اذان وقت سے نہیں ہٹتی تھی۔ عصر تقریباً اسی طرح جیسے تم پڑھتے ہو، مغرب بھی تقریباً اسی طرح، اور عشاء کی نماز تمہاری نماز سے تھوڑی تاخیر سے پڑھتے تھے۔“ [المعجم الكبير للطبراني/باب الجيم/حدیث: 2038]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 250، حدیث 2051»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 2038 in Urdu