🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. بَابُ: كَمِ الشَّهْرُ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِي الْخَبَرِ عَنْ عَائِشَةَ
باب: مہینہ کتنے دنوں کا ہوتا ہے؟ نیز عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں زہری پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2133
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا، فَلَبِثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ شَهْرًا، فَعَدَدْتُ الْأَيَّامَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک ماہ (تک) اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، چنانچہ آپ انتیس دن ٹھہرے رہے، تو میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ایک مہینے کی قسم نہیں کھائی تھی؟ میں نے شمار کیا ہے، ابھی انتیس دن (ہوئے) ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2133]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ناراضی کی بنا پر) قسم کھا لی کہ اپنی بیویوں کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا۔ آپ انتیس دن تک اسی حال میں رہے۔ (پھر میرے پاس تشریف لائے) میں نے (یاد دہانی کے طور پر) عرض کیا کہ آپ نے ایک ماہ کی قسم نہیں کھائی تھی، میں نے تو انتیس دن شمار کیے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2133]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصیام 4 (1083)، والطلاق 5 (1479)، سنن الترمذی/تفسیر سورة التحریم (3318)، (تحفة الأشراف: 16635)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطلاق 24 (2059)، مسند احمد 6/163 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2134
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ حَدَّثَهُ. ح أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَيْنِ , قَالَ اللَّهُ لَهُمَا: إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا سورة التحريم آية 4 , وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: فَاعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ، حِينَ أَفْشَتْهُ حَفْصَةُ إِلَى عَائِشَةَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَ قَالَ: مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ، حِينَ حَدَّثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَدِيثَهُنَّ، فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً، دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا، فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: إِنَّكَ قَدْ كُنْتَ آلَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، وَإِنَّا أَصْبَحْنَا مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً نَعُدُّهَا عَدَدًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں: مجھے برابر اس بات کا اشتیاق رہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان دونوں بیویوں کے بارے میں پوچھوں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: «إن تتوبا إلى اللہ فقد صغت قلوبكما» اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لو (تو بہتر ہے) یقیناً تمہارے دل جھک پڑے ہیں (التحریم: ۴) میں کیا ہے، پھر پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے انتیس راتوں تک اس بات کی وجہ سے جو حفصہ رضی اللہ عنہا نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ظاہر کر دی تھی کنارہ کشی اختیار کر لی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ نے اپنی اس ناراضگی کی وجہ سے جو آپ کو اپنی عورتوں سے اس وقت ہوئی تھی جب اللہ تعالیٰ نے ان کی بات آپ کو بتلائی یہ کہہ دیا تھا کہ میں ان کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جاؤں گا، تو جب انتیس راتیں گزر گئیں تو آپ سب سے پہلے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو انہوں نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو ایک مہینے تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی، اور ہم نے (ابھی) انتیسویں رات کی (ہی) صبح کی ہے، ہم ایک ایک کر کے اسے گن رہے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2134]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عرصہ دراز سے خواہش مند تھا کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات میں سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾ [سورة التحريم: 4] اگر تم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو تو یہ نہایت مناسب ہے کیونکہ تمہارے دل کج (ٹیڑھے) ہو گئے ہیں۔ پھر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے پوری حدیث بیان فرمائی۔ اس تفصیلی حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کی وجہ سے جسے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے فاش (ظاہر) کر دیا تھا، انتیس دن تک اپنی بیویوں سے جدا رہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قسم کھا کر) فرمایا تھا: میں اپنی بیویوں کے پاس ایک مہینے تک نہیں آؤں گا۔ جس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودیوں کی بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پر سخت ناراض ہو گئے تھے، جب انتیس دن گزر گئے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک ماہ تک ہمارے پاس تشریف نہ لائیں گے اور آج تو انتیسویں دن کی صبح ہے، ہم نے یہ دن گن گن کر گزارے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2134]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 27 (89)، والمظالم 25 (2468)، وتفسیر سورة التحریم 2-4 (4914، 4915)، وانکاح 83 (5191)، واللباس 31 (5843)، صحیح مسلم/الطلاق 5 (1479)، سنن الترمذی/تفسیر التحریم (3318)، (تحفة الأشراف: 10507)، مسند احمد 1/33 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں