🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ: صِيَامِ يَوْمِ الشَّكِّ
باب: شک والے دن روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2190
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ صِلَةَ، قَالَ:" كُنَّا عِنْدَ عَمَّارٍ فَأُتِيَ بِشَاةٍ مَصْلِيَّةٍ، فَقَالَ: كُلُوا فَتَنَحَّى بَعْضُ الْقَوْمِ. قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عَمَّارٌ:" مَنْ صَامَ الْيَوْمَ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
صلہ بن زفر کہتے ہیں: ہم عمار رضی الله عنہ کے پاس تھے کہ ایک بھنی ہوئی بکری لائی گئی، تو انہوں نے کہا: آؤ تم لوگ بھی کھاؤ، تو لوگوں میں سے ایک شخص الگ ہٹ گیا، اور اس نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے شک والے دن روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2190]
حضرت صلہ سے مروی ہے کہ ہم حضرت عمار رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو ان کے پاس بھنی ہوئی (سالم) بکری لائی گئی۔ انہوں نے (حاضرین سے) فرمایا: کھاؤ۔ لیکن کچھ لوگ ایک طرف ہو گئے اور کہنے لگے: ہمارا روزہ ہے۔ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے شک والے دن کا روزہ رکھا اس نے حضرت ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2190]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 11 (1906) (تعلیقاً)، سنن ابی داود/الصوم 10 (2334)، سنن الترمذی/الصوم 3 (686)، سنن ابن ماجہ/الصوم 3 (1645)، (تحفة الأشراف: 10354)، سنن الدارمی/الصوم 1 (1724) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، ضعيف، ابو داود (2334) ترمذي (686) ابن ماجه (1645) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2191
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عِكْرِمَةَ فِي يَوْمٍ قَدْ أُشْكِلَ مِنْ رَمَضَانَ هُوَ أَمْ مِنْ شَعْبَانَ، وَهُوَ يَأْكُلُ خُبْزًا وَبَقْلًا وَلَبَنًا، فَقَالَ لِي: هَلُمَّ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ , قَالَ: وَحَلَفَ بِاللَّهِ لَتُفْطِرَنَّ، قُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ مَرَّتَيْنِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ يَحْلِفُ لَا يَسْتَثْنِي تَقَدَّمْتُ، قُلْتُ: هَاتِ الْآنَ مَا عِنْدَكَ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابَةٌ أَوْ ظُلْمَةٌ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ عِدَّةَ شَعْبَانَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا، وَلَا تَصِلُوا رَمَضَانَ بِيَوْمٍ مِنْ شَعْبَانَ".
سماک کہتے ہیں: میں عکرمہ کے پاس ایک ایسے دن میں آیا جس کے بارے میں شک تھا کہ یہ رمضان کا ہے یا شعبان کا، وہ روٹی سبزی، اور دودھ کھا رہے تھے، انہوں نے مجھ سے کہا: آؤ کھاؤ، تو میں نے کہا: میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم ضرور روزہ توڑو گے، تو میں نے دو مرتبہ سبحان اللہ کہا، اور جب میں نے دیکھا کہ وہ قسم پہ قسم کھائے جا رہے ہیں اور ان شاءاللہ نہیں کہہ رہے ہیں تو میں آگے بڑھا، اور میں نے کہا: اب لائیے جو آپ کے پاس ہے، انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: روزہ رکھو (چاند) دیکھ کر، اور افطار کرو (چاند) دیکھ کر، اور اگر تمہارے اور چاند کے بیچ کوئی بدلی یا سیاہی حائل ہو جائے تو شعبان کی تیس کی گنتی پوری کرو، اور ایک دن پہلے روزہ رکھ کر مہینے کا استقبال مت کرو، اور نہ رمضان کو شعبان کے کسی دن سے ملاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2191]
حضرت سماک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عکرمہ رحمہ اللہ کے پاس ایسے دن گیا جس کے بارے میں شک تھا کہ یہ شعبان کا دن ہے یا رمضان المبارک کا؟ آپ روٹی، سبزی اور دودھ تناول فرما رہے تھے۔ مجھے کہنے لگے: آؤ (کھانا کھاؤ)۔ میں نے کہا: میرا تو روزہ ہے۔ انہوں نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ تجھے ضرور روزہ چھوڑنا پڑے گا۔ میں نے کہا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» اللہ پاک ہے! دو دفعہ (میں نے ایسا کہا)، جب میں نے دیکھا کہ وہ «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» اگر اللہ نے چاہا پڑھے بغیر قسم کھا رہے ہیں تو میں آگے بڑھا اور عرض کیا: لائیے! جو آپ کے پاس ہے (کھانا یا دلیل)۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند دیکھ کر روزے رکھنے بند کرو، اگر بادل رکاوٹ بن جائے یا اندھیرا چھا جائے (اور چاند نظر نہ آئے) تو شعبان کے تیس دن پورے کرو، اور رمضان المبارک کے شروع ہونے سے پہلے روزہ نہ رکھو اور رمضان المبارک کو شعبان کے دن سے (روزہ رکھ کر) نہ ملاؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2131 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں