سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. بَابُ: مَا يُكْرَهُ مِنَ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ
باب: سفر میں روزہ رکھنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2257
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ".
کعب بن عاصم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2257]
حضرت کعب بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الصوم11 (1664)، مسند احمد 5/434، سنن الدارمی/الصوم15 (1751) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2258
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ، لَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ ابْنَ كَثِيرٍ عَلَيْهِ.
(تابعی) سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے“۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے، صحیح روایت وہ ہے جو پہلے گزری ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اس پر ابن محمد بن کثیر کی متابعت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2258]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں۔“ امام ابو عبدالرحمٰن (نسائی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ غلط ہے، درست اس سے پہلی (سند) ہے۔ ہمارے علم میں نہیں ہے کہ اس پر کسی نے ابن کثیر کی متابعت کی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، جس کی وضاحت خود مؤلف نے کر دی ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر اصل حدیث صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح