🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

79. بَابُ: صِيَامِ خَمْسَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ
باب: مہینے میں پانچ دن روزہ رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2404
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ زَيْدٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَحَدَّثَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي فَدَخَلَ عَلَيَّ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةَ أَدَمٍ رَبْعَةً حَشْوُهَا لِيفٌ، فَجَلَسَ عَلَى الْأَرْضِ وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ , قَالَ:" أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ:" خَمْسًا" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ:" سَبْعًا" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ:" تِسْعًا" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ:" إِحْدَى عَشْرَةَ" , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ شَطْرَ الدَّهْرِ، صِيَامُ يَوْمٍ وَفِطْرُ يَوْمٍ".
ابوقلابۃ ابوالملیح سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں تمہارے والد زید کے ساتھ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے روزہ کا ذکر کیا گیا تو آپ میرے پاس تشریف لائے، میں نے آپ کے لیے چمڑے کا ایک درمیانی تکیہ لا کر رکھا جس کا بھراؤ کھجور کی پیتاں تھیں، آپ زمین پر بیٹھ گئے، اور تکیہ ہمارے اور آپ کے درمیان ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہر مہینے میں تین دن تمہارے روزہ کے لیے کافی نہیں ہیں؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! (کچھ بڑھا دیجئیے) آپ نے فرمایا: ”پانچ دن کر لو“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! (کچھ بڑھا دیجئیے) آپ نے فرمایا: ”سات دن کر لو“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ اور بڑھا دیجئیے! آپ نے فرمایا: ”نو دن“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! (کچھ اور بڑھا دیجئیے) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیارہ دن کر لو“، میں نے پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! (کچھ بڑھا دیجئیے) آپ نے فرمایا: ”داود علیہ السلام کے روزہ سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں ہے، اور وہ اس طرح ہے ایک دن روزہ رکھا جائے، اور ایک دن بغیر روزہ کے رہا جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2404]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میرے مسلسل روزے رکھنے کا ذکر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک درمیانہ سا چمڑے کا گدا بچھایا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین ہی پر بیٹھ گئے اور وہ گدا میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان رہ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے ہر مہینے سے تین روزے کافی ہیں؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! (مزید اجازت دیجئے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ روزے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! (مزید)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سات روزے۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! (کچھ اور)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نو روزے۔“ میں پھر بولا: اے اللہ کے رسول! (کچھ اور)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گیارہ روزے۔“ میں نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! (کچھ اور)۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت داؤد علیہ السلام کے روزوں سے بڑھ کر کوئی روزہ نہیں، یعنی نصف زمانہ کہ ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2404]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصوم 59 (1980)، الاستئذان 38 (6277)، صحیح مسلم/الصوم 35 (1159)، (تحفة الأشراف: 8969) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں