سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: سُقُوطِ الزَّكَاةِ عَنِ الإِبِلِ، إِذَا كَانَتْ رِسْلاً لأَهْلِهَا وَلِحُمُولَتِهِمْ
باب: اونٹ جب اپنے مالکوں کے دودھ اور ان کی بار برداری کے لیے ہوں تو ان میں زکاۃ نہیں۔
حدیث نمبر: 2451
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، لَا تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا لَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا، وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا شَيْءٌ".
بہز بن حکیم کے دادا معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ہر چرنے والے چالیس اونٹوں میں دو برس کی اونٹنی ہے۔ اونٹ اپنے حساب (ریوڑ) سے جدا نہ کئے جائیں، جو ثواب کی امید رکھ کر انہیں دے گا تو اسے اس کا اجر ملے گا، اور جو دینے سے انکار کرے گا تو ہم اس سے اسے لے کر رہیں گے، مزید اس کے آدھے اونٹ اور لے لیں گے، یہ ہمارے رب کے تاکیدی حکموں میں سے ایک حکم ہے، محمد کے آل کے لیے اس میں سے کوئی چیز حلال نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2451]
حضرت بہز بن حکیم کے دادا رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”باہر چرنے والے اونٹوں «فِي كُلِّ سَائِمَةِ الْإِبِلِ» کی زکاۃ ہر چالیس اونٹوں میں ایک بنت لبون «بِنْتُ لَبُونٍ» (دو برس کی اونٹنی) ہے۔ اونٹوں کو ان کے حساب و مقدار سے ادھر ادھر نہ کیا جائے۔ جو آدمی ثواب حاصل کرنے کے لیے زکاۃ دے گا، اسے اس کا ثواب ملے گا اور جو نہ دے گا، ہم اس سے زکاۃ تو (بہر صورت) وصول کریں گے اور اس کے نصف اونٹ «وَشَطْرَ مَالِهِ» بھی ضبط کر لیں گے۔ زکاۃ ہمارے رب کے فرائض «عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا» میں سے ایک فریضہ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے لیے ذرہ بھر زکاۃ بھی جائز نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2451]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2446 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن