سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
72. بَابُ: مَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ عزوجل کے نام پر مانگنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2568
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنِ اسْتَجَارَ بِاللَّهِ فَأَجِيرُوهُ، وَمَنْ آتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَادْعُوا لَهُ، حَتَّى تَعْلَمُوا أَنْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو شخص تم سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرے اسے دو، اور جو شخص اللہ کے نام پر تم سے امان چاہے تو امان دو، اور جو شخص تمہارے ساتھ کوئی بھلائی کرے تو تم اسے اس کا بدلہ دو، اور اگر تم بدلہ نہ دے سکو تو اس کے لیے دعا کرو یہاں تک کہ تم جان لو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2568]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پناہ طلب کرے، اسے پناہ دو۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام پر مانگے، اسے دو۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے نام پر امن مانگے، اسے امن دو۔ اور جو شخص تم سے حسن سلوک کرے، اسے اس کا بدلہ دو اور اگر تمہیں بدلہ دینے کو کچھ نہ ملے تو اس کے لیے دعا کرو (اور کرتے رہو) حتیٰ کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ تم نے اس کے احسان کا بدلہ چکا دیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2568]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة38 (1672) الأدب117 (5109)، (تحفة الأشراف: 7391)، مسند احمد 2/68، 95، 99، 127 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1672،5109) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341