سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ: مِيقَاتِ أَهْلِ الْيَمَنِ
باب: یمن والوں کی میقات کا بیان۔
حدیث نمبر: 2655
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ صَاحِبُ الشَّافِعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، وَقَالَ: هُنَّ لَهُنَّ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ، فَمَنْ كَانَ أَهْلُهُ دُونَ الْمِيقَاتِ حَيْثُ يُنْشِئُ حَتَّى يَأْتِيَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو، اہل شام کے لیے جحفہ کو، اہل نجد کے لیے قرن کو اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کی اور فرمایا: ”یہ یہاں کے لوگوں کی میقات ہیں اور ان تمام لوگوں کی بھی جو یہاں سے ہو کر گزریں چاہے جہاں کہیں کے بھی رہنے والے ہوں۔ اور جو لوگ ان میقاتوں کے اندر کے رہنے والے ہیں تو ان کی میقات وہیں سے ہے جہاں سے وہ چلیں یہاں تک کہ مکہ والوں کی میقات مکہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2655]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے جحفہ، نجد والوں کے لیے قرن منازل اور یمن والوں کے لیے یلملم میقات مقرر فرمائے، نیز فرمایا: ”یہ میقات ان علاقوں (کے لوگوں) کے لیے ہیں اور ان کے لیے بھی جو ان مواقیت سے گزریں، چاہے وہ دوسرے علاقوں سے تعلق رکھتے ہوں۔ اور جس شخص کی رہائش ان مواقیت کے اندر ہو تو وہ جہاں سے (عمرے اور حج کا) سفر شروع کریں، وہیں سے احرام باندھیں حتیٰ کہ یہ حکم مکے والوں پر بھی لاگو ہوگا، یعنی اہل مکہ، مکہ مکرمہ ہی سے احرام باندھیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2655]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 7 (1524)، 12 (1530)، وجزاء الصید18 (1845)، صحیح مسلم/الحج2 (1181)، (تحفة الأشراف: 5711)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج9 (1738)، مسند احمد (1/238، 249، 252، 232، 339)، سنن الدارمی/المناسک 5 (1833)، ویأتي عند المؤلف برقم: 2658 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه