🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. بَابُ: غُسْلِ الْمُحْرِمِ
باب: مُحرِم کے غسل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2666
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا بِالأَبْوَاءِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ، وَقَالَ الْمِسْوَرُ: لَا يَغْسِلُ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ قَرْنَيِ الْبِئْرِ، وَهُوَ مُسْتَتِرٌ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَسْأَلُكَ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ يَدَهُ عَلَى الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّى بَدَا رَأْسُهُ، ثُمَّ قَالَ:" لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ، ثُمَّ حَرَّكَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، وَقَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ".
عبداللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی الله عنہم سے روایت ہے کہ ان دونوں کے درمیان مقام ابواء میں (محرم کے سر دھونے اور نہ دھونے کے بارے میں) اختلاف ہو گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: محرم اپنا سر دھوئے گا اور مسور نے کہا: نہیں دھوئے گا۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے اس بارے میں سوال کروں، چنانچہ میں گیا تو وہ مجھے کنویں کی دونوں لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے ہوئے ملے اور وہ کپڑے سے پردہ کئے ہوئے تھے، میں نے انہیں سلام کیا اور کہا: مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں آپ سے سوال کروں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں اپنا سر کس طرح دھوتے تھے ۱؎۔ (یہ سن کر) ابوایوب رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھا، اور اسے جھکایا یہاں تک کہ ان کا سر دکھائی دینے لگا، پھر ایک شخص سے جو پانی ڈالتا تھا کہا: سر پر پانی ڈالو، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو حرکت دی، (صورت یہ رہی کہ) کہ دونوں ہاتھ کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے، اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2666]
حضرت عبداللہ بن حنین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کا ابواء کے مقام پر اختلاف ہو گیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اپنا سر دھو سکتا ہے، اور حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ سر نہیں دھو سکتا۔ مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ ان سے اس بارے میں پوچھوں۔ (میں آیا) تو میں نے انہیں کنویں کی دو لکڑیوں کے درمیان غسل کرتے پایا، انہوں نے ایک کپڑے کے ساتھ پردہ کیا ہوا تھا۔ میں نے انہیں سلام کیا اور کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ آپ سے پوچھوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں اپنا سر کیسے دھوتے تھے؟ حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے کپڑے پر ہاتھ رکھ کر اسے نیچے کیا حتیٰ کہ ان کا سر نظر آنے لگا، پھر اس شخص سے کہنے لگے جو ان کے سر پر پانی بہا رہا تھا: پانی بہاؤ، پھر انہوں نے اپنے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں سے حرکت دی، اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے لائے اور پیچھے لے گئے اور فرمایا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے کرتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2666]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید14 (1840)، صحیح مسلم/الحج13 (1205)، سنن ابی داود/الحج38 (1840)، سنن ابن ماجہ/الحج22 (3934)، (تحفة الأشراف: 3463)، مسند احمد 5/416، 418، 421، سنن الدارمی/المناسک 6 (1834) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ دونوں میں اختلاف غسل کرنے یا نہ کرنے میں تھا نہ کہ کیفیت کے بارے میں پھر انہوں نے ابوایوب رضی الله عنہ سے جا کر غسل کی کیفیت کے بارے کیوں سوال کیا؟ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں نے انہیں دونوں باتیں پوچھنے کے لیے بھیجا تھا لیکن وہاں پہنچ کر جب انہوں نے خود انہی کو حالت احرام میں غسل کرتے دیکھا تو اس سے انہوں نے اس کے جواز کو خودبخود جان لیا اب بچا مسئلہ صرف کیفیت کا تو اس بارے میں انہوں نے پوچھ لیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں