سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. بَابُ: إِشْعَارِ الْهَدْىِ
باب: ہدی کا اشعار کرنا۔
حدیث نمبر: 2772
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ، قَلَّدَ الْهَدْيَ، وَأَشْعَرَ، وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ" , مُخْتَصَرٌ.
مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے زیادہ صحابہ کے ساتھ (عمرہ کے لیے) نکلے، یہاں تک کہ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے ہدی کے جانور کو قلادۃ پہنایا اور اس کا اشعار ۱؎ کیا اور عمرے کا احرام باندھا، یہ حدیث بڑی حدیث سے مختصر کی ہوئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2772]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ حدیبیہ کے وقت ایک ہزار اور چند سو صحابہ کے ساتھ (مدینہ منورہ سے) نکلے، حتیٰ کہ جب وہ ذوالحلیفہ میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے اونٹوں کو قلادے ڈالے اور اشعار کیا اور عمرے کا احرام باندھا، یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2772]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 106 (1694)، المغازي 35 (4157، 4158)، سنن ابی داود/الحج 15 (1754)، (تحفة الأشراف: 11250)، مسند احمد (4/323، 327، 328) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تقلید اور اشعار کی تفسیر کے لیے دیکھئیے حدیث رقم ۲۶۸۳ کا حاشیہ نمبر ۲۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2773
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِذِي الْحُلَيْفَةِ، قَلَّدَ الْهَدْيَ، وَأَشْعَرَ، وَأَحْرَمَ بِالْعُمْرَةِ" , مُخْتَصَرٌ.
مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم دونوں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے سال ایک ہزار سے زیادہ صحابہ کے ساتھ (عمرہ کے لیے) نکلے، یہاں تک کہ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے ہدی کے جانور کو قلادۃ پہنایا اور اس کا اشعار ۱؎ کیا اور عمرے کا احرام باندھا، یہ حدیث بڑی حدیث سے مختصر کی ہوئی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2773]
u [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2773]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 106 (1694)، المغازي 35 (4157، 4158)، سنن ابی داود/الحج 15 (1754)، (تحفة الأشراف: 11250)، مسند احمد (4/323، 327، 328) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تقلید اور اشعار کی تفسیر کے لیے دیکھئیے حدیث رقم ۲۶۸۳ کا حاشیہ نمبر ۲۔
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2774
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَشْعَرَ بُدْنَهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کا اشعار کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2774]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قربانی کے اونٹوں کو اشعار کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2774]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 106 (1696) 108 (1699)، صحیح مسلم/الحج64 (1321)، سنن ابی داود/الحج 17 (1757)، سنن ابن ماجہ/الحج 96 (3098)، (تحفة الأشراف: 17433)، حصحیح مسلم/786، ویأتی عند المؤلف فی68 (برقم 2785) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه