🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

155. بَابُ: الْعِلَّةِ الَّتِي مِنْ أَجْلِهَا سَعَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْبَيْتِ
باب: خانہ کعبہ کے طواف کے وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے رمل کرنے کی علت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2948
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ ابْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ مَكَّةَ، قَالَ الْمُشْرِكُونَ: وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ وَلَقُوا مِنْهَا شَرًّا، فَأَطْلَعَ اللَّهُ نَبِيَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى ذَلِكَ،" فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَرْمُلُوا، وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ مِنْ نَاحِيَةِ الْحِجْرِ، فَقَالُوا: لَهَؤُلَاءِ أَجْلَدُ مِنْ كَذَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب (فتح کے موقع پر) مکہ تشریف لائے تو مشرکین کہنے لگے: انہیں یثرب یعنی مدینہ کے بخار نے لاغر و کمزور کر دیا ہے، اور انہیں وہاں شر پہنچا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دی تو آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اکڑ کر کندھے ہلاتے ہوئے تیز چلیں، اور دونوں رکنوں (یعنی رکن یمانی اور حجر اسود) کے درمیان عام چال چلیں، اور مشرکین اس وقت حطیم کی جانب ہوتے تو انہوں نے (ان کو اکڑ کر کندھے اچکاتے ہوئے تیز چلتے ہوئے دیکھ کر) کہا: یہ تو یہاں سے بھی زیادہ مضبوط اور قوی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2948]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ (عمرۃ القضاء میں) مکہ مکرمہ تشریف لائے تو مشرکین کہنے لگے: انھیں یثرب کے بخار نے کمزور کر دیا ہے اور ان کی حالت بہت پتلی ہو گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع فرما دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ رمل کریں، البتہ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان آہستہ چلیں کیونکہ مشرکین حطیم کی جانب (شمالی جانب) تھے۔ تو مشرکین (انھیں رمل کرتے دیکھ کر) کہنے لگے: یہ تو بہت زیادہ قوی ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2948]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 55 (1602)، المغازی 43 (4256)، صحیح مسلم/الحج 39 (1266)، سنن ابی داود/الحج 51 (1886)، (تحفة الأشراف: 5438)، سنن الترمذی/الحج 39 (863) مسند احمد (1/290، 294، 295، 273، 306) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2949
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ عَنِ اسْتِلَامِ الْحَجَرِ، فَقَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ"، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَرَأَيْتَ إِنْ زُحِمْتُ عَلَيْهِ أَوْ غُلِبْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:" اجْعَلْ أَرَأَيْتَ بِالْيَمَنِ؟ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ".
زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر سے حجر اسود کے استلام کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے، اس آدمی نے کہا: اگر میرے اس تک پہنچنے میں بھیڑ آڑے آ جائے یا میں مغلوب ہو جاؤں اور نہ جا پاؤں تو؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: «أرأیت» ۱؎ کو تم یمن میں رکھو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2949]
حضرت زبیر بن عدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حجر اسود کو چھونے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے چھوتے اور بوسہ دیتے دیکھا ہے۔ وہ آدمی کہنے لگا: فرمائیے! اگر بہت بھیڑ ہو اور میں بے بس ہو جاؤں تو؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اپنا فرمائیے یمن ہی میں رہنے دو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود کو چھوتے اور بوسہ دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2949]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 60 (1611)، سنن الترمذی/الحج 37 (861)، (تحفة الأشراف: 6719) مسند احمد (3/152) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «أرأیت» مطلب یہ ہے کہ اگر مگر چھوڑو جسے سنت رسول کی جستجو ہوا سے اس طرح کے سوالات زیب نہیں دیتے یہ تو تارکین سنت کا شیوہ ہے، سنت رسول کو جان لینے کے بعد اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے جہاں تک ممکن ہو کوشش کرنی چاہیئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں