🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. بَابُ: حُرْمَةِ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ
باب: مجاہدین کی بیویوں کی عزت و حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3191
أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ وَاللَّفْظُ لِحُسَيْنٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" حُرْمَةُ نِسَاءِ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ كَحُرْمَةِ أُمَّهَاتِهِمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَخْلُفُ فِي امْرَأَةِ رَجُلٍ مِنَ الْمُجَاهِدِينَ فَيَخُونُهُ فِيهَا، إِلَّا وُقِفَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَخَذَ مِنْ عَمَلِهِ مَا شَاءَ فَمَا ظَنُّكُمْ".
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد میں جانے والوں کی بیویوں کی عزت و حرمت جہاد میں نہ جانے والوں کے لیے ان کی ماؤں کی عزت و حرمت جیسی ہے ۱؎ جو شخص مجاہدین کی بیویوں کی حفاظت و نگہداشت کے لیے گھر پر رہا اور اس نے کسی مجاہد کی بیوی کے ساتھ خیانت کی تو اسے قیامت کے دن روک رکھا جائے گا، (یعنی اس کا حساب و کتاب اس وقت تک چکتا نہیں کیا جائے گا جب تک کہ) وہ مجاہد اس خائن کے اعمال کا ثواب جس قدر چاہے گا لے (نہ) لے گا۔ تو تمہارا کیا خیال ہے؟ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3191]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجاہدین کی عورتیں جنگ میں نہ جانے والوں کے لیے ان کی اپنی ماؤں کی طرح قابل احترام ہیں۔ اور جو آدمی کسی مجاہد کی عدم موجودگی میں اس کی بیوی کے ساتھ خیانت کا ارتکاب کرے، اسے قیامت کے دن اس مجاہد کے سامنے کھڑا کر دیا جائے گا، کہ وہ اس کی جتنی نیکیاں چاہے لے لے، پھر تمہارا خیال ہے؟ (کیا وہ اس کی کوئی نیکی چھوڑ دے گا)۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 39 (1897)، سنن ابی داود/الجہاد 12 (2496)، (تحفة الأشراف: 1933)، مسند احمد (5/352، 355) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی مجاہدین کی بیویوں کی عزت و توقیر جہاد پر نہ جانے والوں پر واجب ہے۔ ۲؎: کیا وہ اس کے لیے کچھ چھوڑے گا؟ وہ تو اس کی ساری نیکیاں لے لے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں