سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. بَابُ: تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الأُخْتَيْنِ
باب: کسی مرد کے نکاح میں دو بہنوں کے ایک ساتھ ہونے کی حرمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3289
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي؟ قَالَ:" فَأَصْنَعُ مَاذَا؟" قَالَتْ: تَزَوَّجْهَا، قَالَ:" فَإِنَّ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيْكِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ يَشْرَكُنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، قَالَ:" إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي" , قَالَتْ: فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" وَاللَّهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا لَابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ".
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری بہن میں کچھ رغبت (دلچسپی) ہے؟ آپ نے فرمایا: ”(اگر دلچسپی ہو) تو میں کیا کروں؟“ انہوں نے کہا: آپ اس سے شادی کر لیں، آپ نے کہا: یہ اس لیے کہہ رہی ہو کہ تمہیں یہ زیادہ پسند ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! میں آپ کی تنہا بیوی نہیں ہوں اور مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ خیر میں جو میری ساجھی دار بنے وہ میری اپنی سگی بہن ہو، آپ نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے“، انہوں نے کہا: مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ درہ بنت ام سلمہ سے شادی کرنے والے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”(تم) ام سلمہ کی بیٹی سے (کہہ رہی ہو)؟“ انہوں نے کہا: ہاں (میں انہی کا نام لے رہی ہوں)، آپ نے فرمایا: ”قسم اللہ کی! اگر وہ میری ربیبہ میری گود کی پروردہ نہ ہوتی تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی (وہ تو دو حیثیتوں سے میرے لیے حرام ہے ایک تو اس کی حیثیت میری بیٹی کی ہے اور دوسرے) وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے (یعنی میری بھتیجی ہے)، تو (آئندہ) اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو میرے اوپر (شادی کے لیے) پیش نہ کرنا“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3289]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کو میری بہن سے کچھ رغبت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کیا کروں؟“ میں نے کہا: اس سے نکاح کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے یہ پسند ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میں پہلے بھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں اکیلی نہیں اور میری بہن اس فضیلت میں میرے ساتھ شریک ہو جائے تو مجھے یہ بہت پسند ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو میرے لیے حلال نہیں ہے۔“ میں نے کہا: مجھے تو یہ بات پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم درہ بنت ام سلمہ سے نکاح کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابو سلمہ کی بیٹی سے؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری بیٹی کی بیٹی نہ ہوتی تب بھی میرے لیے حلال نہ تھی کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے۔ تم مجھ پر اپنی بیٹیاں اور بہنیں نکاح کے لیے پیش نہ کیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3289]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3286 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن