سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ: مَنْ لاَ يَقَعُ طَلاَقُهُ مِنَ الأَزْوَاجِ
باب: کن شوہروں کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 3462
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبُرَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ أَوْ يُفِيقَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ۱؎ ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے ۲؎، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، تیسرے دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3462]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین اشخاص سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: سوتے شخص سے حتیٰ کہ وہ جاگ پڑے، نابالغ سے حتیٰ کہ وہ بالغ ہو جائے اور مجنون و پاگل سے حتیٰ کہ اسے عقل و ہوش آ جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحدود 16 (4398)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 15 (2041)، (تحفة الأشراف: 15935)، مسند احمد (6/100، 101، 144)، سنن الدارمی/الحدود 1 (2343) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان حالات میں ان پر گناہ کا حکم نہیں لگتا۔ ۲؎: یعنی سونے کی حالت میں جو کچھ کہہ دے اس کا اعتبار نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4398) ابن ماجه (2041) إبراهيم النخعي مدلس وعنعن،ولم أجد تصريح سماعه. وانظر سنن أبى داود (4399.4400 بتحقيقي). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347