سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ: فِي اللَّغْوِ وَالْكَذِبِ
باب: (خرید و فروخت کے وقت) غلط اور جھوٹی باتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3830
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ , قَالَ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ فِي السُّوقِ , فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ السُّوقَ يُخَالِطُهَا اللَّغْوُ وَالْكَذِبُ , فَشُوبُوهَا بِالصَّدَقَةِ.
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بازار میں تھے کہ ہمارے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا: ”ان بازاروں میں (بغیر قصد و ارادے کے) غلط اور جھوٹی باتیں آ ہی جاتی ہیں، لہٰذا تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3830]
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم بازار میں (تجارت کررہے) تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس بازار میں فضول باتوں اور جھوٹ کی آمیزش ہوتی رہتی ہے، لہٰذا صدقہ کرتے رہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3830]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3828 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی صدقہ کیا کرو تو یہ ان کا کفارہ بن جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3831
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ , قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ , قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ , نَبِيعُ الْأَوْسَاقَ وَنَبْتَاعُهَا , وَكُنَّا نُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ , وَيُسَمِّينَا النَّاسُ , فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ , فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنَ الَّذِي سَمَّيْنَا أَنْفُسَنَا , وَسَمَّانَا النَّاسُ , فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ , إِنَّهُ يَشْهَدُ بَيْعَكُمُ الْحَلِفُ وَالْكَذِبُ , فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ.
قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ مدینے میں وسق بیچتے اور خریدتے تھے، اور ہم اپنے کو «سماسرہ» (دلال) کہتے تھے، لوگ بھی ہمیں دلال کہتے تھے۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف نکل کر آئے تو آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو اس نام سے بہتر تھا جو ہم اپنے لیے کہتے تھے یا لوگ ہمیں اس نام سے پکارتے تھے، آپ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! تمہاری خرید و فروخت میں (بلا قصد و ارادے کے) قسم اور جھوٹ کی باتیں بھی آ جاتی ہیں تو تم اس میں صدقہ ملا لیا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3831]
حضرت قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم مدینہ منورہ میں غلے کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے اور اپنے آپ کو «سِمْسَار» کہا کرتے تھے، لوگ بھی ہمیں یہی کہتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے ہمیں ہمارے اور لوگوں کے رکھے ہوئے نام سے بہترین نام دیا، آپ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! تمہارے سودوں میں (بلا قصد و ارادہ) جھوٹ اور قسموں کی ملاوٹ ہوتی ہے، لہٰذا تم اپنے سودوں کے ساتھ ساتھ صدقے کی بھی ملاوٹ کیا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3831]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3828 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن