🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

0. بَابُ: 3 - باب ذِكْرِ اخْتِلاَفِ الأَلْفَاظِ الْمَأْثُورَةِ فِي الْمُزَارَعَةِ
باب: مزارعت (بٹائی) کے سلسلے میں وارد مختلف الفاظ اور عبارتوں کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3960
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدٌ , يَقُولُ:" الْأَرْضُ عِنْدِي مِثْلُ مَالِ الْمُضَارَبَةِ فَمَا صَلُحَ فِي مَالِ الْمُضَارَبَةِ صَلُحَ فِي الْأَرْضِ، وَمَا لَمْ يَصْلُحْ فِي مَالِ الْمُضَارَبَةِ لَمْ يَصْلُحْ فِي الْأَرْضِ"، قَالَ: وَكَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَدْفَعَ أَرْضَهُ إِلَى الْأَكَّارِ عَلَى أَنْ يَعْمَلَ فِيهَا بِنَفْسِهِ , وَوَلَدِهِ , وَأَعْوَانِهِ , وَبَقَرِهِ , وَلَا يُنْفِقَ شَيْئًا، وَتَكُونَ النَّفَقَةُ كُلُّهَا مِنْ رَبِّ الْأَرْضِ.
ابن عون کہتے ہیں کہ محمد (محمد بن سیرین) کہا کرتے تھے: میرے نزدیک زمین مضاربت کے مال کی طرح ہے، تو جو کچھ مضاربت کے مال میں درست ہے، وہ زمین میں بھی درست ہے، اور جو مضاربت کے مال میں درست نہیں، وہ زمین میں بھی درست نہیں، وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ وہ اپنی زمین کاشتکار کے حوالے کر دیں اس شرط پر کہ وہ (کاشتکار) خود اپنے آپ، اس کے لڑکے، اس کے دوسرے معاونین اور گائے بیل اس میں کام کریں گے اور وہ اس میں کچھ بھی خرچ نہیں کرے گا بلکہ تمام مصارف زمین کے مالک کی طرف سے ہوں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3960]
حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ میرے نزدیک زمین مضاربت کے مال کی طرح ہے، جو کچھ مالِ مضاربت میں درست ہے، وہ زمین میں بھی درست ہے اور جو مالِ مضاربت میں درست نہیں، وہ زمین میں بھی درست نہیں، اور وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ زمین مزارع کے سپرد کر دے اور وہ (مزارع) اس میں خود یا اپنی اولاد اور اپنے ساتھیوں اور اپنے بیلوں وغیرہ کے ساتھ کام کرے اور خرچ کچھ نہ کرے بلکہ اخراجات سب کے سب مالکِ زمین کی طرف سے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3960]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 19308) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: بٹائی کی یہ ایک جائز صورت ہے، واجب نہیں بلکہ یہ بھی جائز ہے کہ زمین کا مالک کچھ بھی خرچ نہ کرے، تمام اخراجات کاشتکار کرے اور آدھی پیداوار کا حقدار ہو جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3961
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْمَلُوهَا مِنْ أَمْوَالِهِمْ , وَأَنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرَ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود کو خیبر کے باغات اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اس میں اپنے خرچ پر کام کریں گے اور اس کی پیداوار کا آدھا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3961]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کی کھجوریں (درخت) اور زمین اس شرط پر سپرد کر دی تھیں کہ وہ اپنے مال سے ان درختوں اور زمین میں کام کریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کل پیداوار کا نصف (بطور مالک زمین) ملے گا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3961]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساقاة 1 (1551)، سنن ابی داود/البیوع 35(3408)، (تحفة الأشراف: 8424)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحرث 8 (2328) (في سیاق أطول من ذلک) 9 (2329)، سنن الترمذی/الأحکام 41 (1383)، سنن ابن ماجہ/الرہون 14 (2468)، مسند احمد (2/17، 22، 37)، سنن الدارمی/البیوع 71 (2656) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3962
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَفَعَ إِلَى يَهُودِ خَيْبَرَ نَخْلَ خَيْبَرَ , وَأَرْضَهَا عَلَى أَنْ يَعْمَلُوهَا بِأَمْوَالِهِمْ , وَأَنَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَطْرَ ثَمَرَتِهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود خیبر کو خیبر کے باغات اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اپنے خرچ پر اس میں کام کریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کے پھل کا آدھا ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3962]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں کو خیبر کی زمین اور کھجوروں کے درخت اس شرط پر دیے تھے کہ وہ اپنے مالوں کے ساتھ ان میں کام کریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (بحیثیت مالک ہونے کے) اس زمین کا نصف پھل ملے گا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3962]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3963
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ:" كَانَتِ الْمَزَارِعُ تُكْرَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , عَلَى أَنَّ لِرَبِّ الْأَرْضِ مَا عَلَى رَبِيعِ السَّاقِي مِنَ الزَّرْعِ , وَطَائِفَةً مِنَ التِّبْنِ , لَا أَدْرِي كَمْ هُوَ".
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کھیت بٹائی پر دیے جاتے تھے اس شرط پر کہ زمین کے مالک کے لیے وہ پیداوار ہو گی جو نالیوں اور نہروں کی کیاریوں پر ہو اور کچھ گھاس جس کی مقدار مجھے معلوم نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3963]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں زمینیں کرائے پر دی جاتی تھیں، اس شرط پر کہ پانی کے نالوں کے قریب اگنے والی فصل اور کچھ معین توڑی، نہ معلوم وہ کتنی ہوتی تھی، مالکِ زمین کو ملے گی (اور باقی مزارع کو)۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3963]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8425) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3964
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ:" كَانَ عَمَّايَ يَزْرَعَانِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ , وَأَبِي شَرِيكَهُمَا وَعَلْقَمَةُ , وَالْأَسْوَدُ يَعْلَمَانِ فَلَا يُغَيِّرَانِ".
عبدالرحمٰن بن اسود کہتے ہیں کہ میرے دو چچا تہائی اور چوتھائی پر کھیتی کرتے تھے اور میرے والد ان کے شریک ہوتے تھے۔ علقمہ اور اسود کو یہ بات معلوم تھی مگر وہ کچھ نہ کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3964]
حضرت عبدالرحمن بن اسود رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میرے دو چچا تہائی یا چوتھائی حصے کے عوض کاشت کیا کرتے تھے اور میرے والد بھی ان کے ساتھ شریک ہوتے تھے اور حضرت علقمہ اور حضرت اسود رحمہما اللہ اس بات کو جانتے تھے لیکن روکتے نہیں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3964]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18953) (ضعیف الإسناد) (قاضی شریک ضعیف الحفظ اور ابواسحاق مختلط راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، أبو إسحاق وشريك القاضي عنعنا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3965
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَعْمَرًا، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِنَّ خَيْرَ مَا أَنْتُمْ صَانِعُونَ أَنْ يُؤَاجِرَ أَحَدُكُمْ أَرْضَهُ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس میں سب سے بہتر یہ ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنی زمین سونے، چاندی کے بدلے کرائے پردے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3965]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بہترین طریق کار یہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی (زائد) زمین سونے چاندی (رقم) کے عوض ٹھیکے پر دے دے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3965]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 5549) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد موقوف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3966
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ:" أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَرَيَانِ بَأْسًا بِاسْتِئْجَارِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ".
ابراہیم نخعی اور سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ وہ دونوں خالی زمین کو کرائے پر اٹھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3966]
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ اور حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ خالی زمین کو کرائے (بٹائی یا ٹھیکے) پر دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18430، 18687) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3967
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: لَمْ أَعْلَمْ شُرَيْحًا كَانَ يَقْضِي فِي الْمُضَارِبِ إِلَّا بِقَضَاءَيْنِ: كَانَ رُبَّمَا قَالَ لِلْمُضَارِبِ:" بَيِّنَتَكَ عَلَى مُصِيبَةٍ تُعْذَرُ بِهَا"، وَرُبَّمَا قَالَ لِصَاحِبِ الْمَالِ:" بَيِّنَتَكَ أَنَّ أَمِينَكَ خَائِنٌ , وَإِلَّا فَيَمِينُهُ بِاللَّهِ مَا خَانَكَ".
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے کہ شریح مضارب ۱؎ کے سلسلے میں صرف دو طرح کے فیصلے دیتے تھے، کبھی مضارب سے کہتے کہ تم اس مصیبت پر گواہ لے کر آؤ جس کی وجہ سے تم معذور قرار دیئے جاؤ، اور کبھی صاحب مال سے کہتے: تم اس بات کا گواہ لے کر آؤ کہ تمہارے امین (مضارب) نے خیانت کی ہے۔ ورنہ اس سے اللہ کی قسم لی جائے گی کہ اس نے خیانت نہیں کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3967]
حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے علم کے مطابق حضرت قاضی شریح رحمہ اللہ مضارب کے بارے میں دو فیصلے فرماتے تھے: کبھی تو وہ مضارب سے کہتے کہ تجھے پہنچنے والی مصیبت پر کوئی گواہ یا دلیل پیش کرو تاکہ تمہیں معذور قرار دیا جائے اور کبھی مال والے کو کہتے کہ تم دلیل اور گواہ پیش کرو کہ جس کے پاس تم نے امانت رکھی ہے اس نے خیانت کی ہے، ورنہ اس سے قسم لی جائے گی کہ اس نے تجھ سے خیانت نہیں کی۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3967]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18801) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: مضارب (راء کے زیر کے ساتھ) اسے کہتے ہیں جو کسی دوسرے کے مال سے تجارت کرے یعنی محنت اس شخص کی ہو اور پیسہ کسی اور کا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3968
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِإِجَارَةِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ.
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ خالی زمین کو سونے، چاندی کے بدلے کرائے پر اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3968]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ صاف زمین سونے چاندی (نقد رقم) کے عوض کرائے (ٹھیکے) پر دے دی جائے۔ (مضاربت کی دستاویز) امام نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کو کچھ مال بطور مضاربت دے اور اس کی تحریر لکھنا چاہے تو اسے یوں لکھنا چاہیے (لکھنے والا وہ شخص ہو گا جسے مالِ مضاربت دیا جائے): یہ وہ تحریر ہے جو فلاں بن فلاں نے اپنی خوشی سے، صحت اور اختیار کی حالت میں، فلاں بن فلاں کے لیے لکھی ہے، کہ مجھے فلاں سال کے فلاں مہینے کے آغاز میں صحیح (کھڑے) اور عمدہ دس ہزار درہم (جو وزن کے لحاظ سے دس درہم سات مثقال کے برابر ہوتے ہیں) ملے۔ اس شرط پر کہ میں ظاہری اور پوشیدہ معاملات میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہوں گا اور بہرصورت امانت داری کروں گا، نیز میں ان کے ساتھ جو چیز خریدنا مناسب سمجھوں گا، خریدوں گا اور جس قسم کی تجارت میں بھی ان کو صرف کرنا بہتر سمجھوں گا، صرف کروں گا۔ اور میں جہاں کا سفر مناسب سمجھوں گا، کروں گا اور ان سے خریدی ہوئی اشیاء میں سے جو چیزیں بیچنا مناسب سمجھوں گا، انہیں نقد یا ادھار اور رقم کے عوض یا سامان کے عوض بیچوں گا۔ میں ان تمام معاملات میں اپنی رائے پر عمل کروں گا۔ اور اگر میں مناسب سمجھوں تو کسی بھی شخص کو وکیل بناؤں گا، اور اصل مال جو تو نے مجھے دیا ہے اور جس کی مقدار اس تحریر میں بیان کر دی گئی ہے، اس کے علاوہ جو بھی اللہ تعالیٰ اس میں اضافہ اور نفع عطا فرمائے گا، وہ میرے اور تیرے درمیان برابر تقسیم ہو گا۔ نصف تجھے ملے گا کیونکہ اصل مال تیرا ہے اور باقی نصف مجھے اپنی محنت اور کام کی وجہ سے ملے گا۔ اور اگر (اللہ نہ کرے) اس کاروبار میں نقصان ہوا تو وہ اصل مال سے شمار ہو گا۔ تو میں نے تجھ سے یہ دس ہزار صحیح (کھڑے) اور عمدہ درہم فلاں سال کے فلاں مہینے کے شروع میں وصول کر لیے ہیں اور یہ تیری رقم میرے پاس بطور مضاربت ہے، ان شرائط کے مطابق جو اس تحریر میں لکھ دی گئی ہیں۔ فلاں (رقم لینے والا) اور فلاں (رقم دینے والا) اس تحریر کا اقرار کرتے ہیں۔ اور اگر مال کا مالک ادھار خرید و فروخت کی اجازت نہ دینا چاہتا ہو تو تحریر میں یوں لکھا جائے گا: اور تو نے مجھے ادھار خرید و فروخت سے روک دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3968]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفردبہ النسائي (تحفة الأشراف: 18707) (ضعیف) (اس کے راوی ’’شریک القاضی‘‘ ضعیف الحفظ ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، شريك القاضي عنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 350

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں