سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ: فِي الَّذِي يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنْهُ
باب: شکار تیر کھا کر غائب ہو جائے تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 4305
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا أَهْلُ الصَّيْدِ، وَإِنَّ أَحَدَنَا يَرْمِي الصَّيْدَ فَيَغِيبُ عَنْهُ اللَّيْلَةَ وَاللَّيْلَتَيْنِ , فَيَبْتَغِي الْأَثَرَ فَيَجِدُهُ مَيِّتًا وَسَهْمُهُ فِيهِ؟، قَالَ:" إِذَا وَجَدْتَ السَّهْمَ فِيهِ وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ سَبُعٍ , وَعَلِمْتَ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهُ فَكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ شکاری ہیں، ہم میں سے ایک شخص شکار کو تیر مارتا ہے تو وہ ایک رات یا دو رات غائب ہو جاتا ہے، وہ اس کا پتا لگاتا ہے یہاں تک کہ اسے مردہ پاتا ہے اور اس کا تیر اس کے اندر ہوتا ہے، آپ نے فرمایا: ”جب تم اس میں تیر پاؤ اور اس میں کسی درندے کا نشان نہ ہو اور تمہیں یقین ہو جائے کہ وہ تمہارے تیر سے مرا ہے تو اسے کھاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4305]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم شکاری لوگ ہیں۔ کبھی ہم میں سے کوئی شخص شکار پر تیر چلاتا ہے اور وہ (شکار) اس سے ایک دو راتیں غائب رہتا ہے۔ شکاری اس کی کھوج لگاتا ہوا پہنچتا ہے تو اسے بے جان پاتا ہے جبکہ اس کا تیر اس میں پیوست ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنا تیر اس میں لگا ہوا پہچان لے اور جانور میں کسی درندے کے زخم لگانے کا کوئی نشان نہ ہو اور تجھے یقین ہو کہ تیرے تیر ہی نے اسے قتل کیا ہے تو تو اسے کھا سکتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4305]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصید 4 (1468)، (تحفة الأشراف: 9854)، مسند احمد (4/377) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4306
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا رَأَيْتَ سَهْمَكَ فِيهِ وَلَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَهُ وَعَلِمْتَ أَنَّهُ قَتَلَهُ فَكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنا تیر اس (شکار) میں دیکھو اور اس کے علاوہ اس میں کوئی نشان نہ دیکھو اور تمہیں یقین ہو جائے کہ اسی سے وہ مرا ہے تو اسے کھاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4306]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اپنا تیر اس میں لگا ہوا پہچان لے اور کوئی دوسرا نشان اس میں نہ ہو اور تجھے یقین ہو کہ تیرے تیر ہی نے اسے قتل کیا ہے، تو تو اسے کھا سکتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4306]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4307
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَطْلُبُ أَثَرَهُ بَعْدَ لَيْلَةٍ؟، قَالَ:" إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبُعٌ فَكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار کو تیر مارتا ہوں پھر میں ایک رات کے بعد اس کے نشانات ڈھونڈتا ہوں، آپ نے فرمایا: ”جب تم اس کے اندر اپنا تیر پاؤ اور اس میں سے کسی درندے نے نہ کھایا ہو تو تم کھاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4307]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں شکار کو تیر مارتا ہوں، پھر اس کا کھوج لگاتے ہوئے ایک رات کے بعد اسے پاتا ہوں (تو کیا کروں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو اس میں اپنا تیر پہچان لے، تو اسے کھا سکتا ہے بشرطیکہ کسی درندے نے اس میں سے کچھ نہ کھایا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 4307]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4305 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن