🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. بَابُ: النَّهْىِ عَنِ الْمُجَثَّمَةِ
باب: «مجثمہ» (جس جانور کو باندھ کر نشانہ لگا کر مارنے اور اس کو کھانے) کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4443
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحِلُّ الْمُجَثَّمَةُ".
ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مجثمة‏» حلال نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4443]
حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجثمہ حلال نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4331 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «مجثمة‏» یعنی وہ جانور جس کو باندھ کر نشانہ لگا کر مسلسل تیر مارا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4444
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ يَعْنِي ابْنَ أَيُّوبَ، فَإِذَا أُنَاسٌ يَرْمُونَ دَجَاجَةً فِي دَارِ الْأَمِيرِ، فَقَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ".
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ میں انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم (حکم بن ایوب) کے یہاں گیا تو دیکھا کہ چند لوگ امیر کے گھر میں ایک مرغی کو نشانہ بنا کر مار رہے ہیں، تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر اس طرح مارا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4444]
حضرت ہشام بن زید رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس گیا تو کچھ لوگ امیر کے گھر میں ایک مرغی کو نشانہ بنا کر تیر مار رہے تھے، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر نشانہ بنایا جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 25 (5513)، صحیح مسلم/الصید 12 (1956)، سنن ابی داود/الأضاحی 12 (2816)، سنن ابن ماجہ/الذبائح10 (3186)، (تحفة الأشراف: 1630)، مسند احمد (3/117، 171، 180، 191) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4445
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُنَاسٍ وَهُمْ يَرْمُونَ كَبْشًا بِالنَّبْلِ، فَكَرِهَ ذَلِكَ، وَقَالَ:" لَا تَمْثُلُوا بِالْبَهَائِمِ".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر چند لوگوں کے پاس سے ہوا۔ وہ ایک مینڈھے کو تیر مار رہے تھے، آپ نے اسے پسند نہیں کیا اور فرمایا: جانوروں کا مثلہ نہ کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4445]
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو ایک مینڈھے کو نشانہ بنا کر تیر مار رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سخت ناپسند کیا اور فرمایا: جانوروں کا مثلہ نہ کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 529) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4446
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت بھیجی جس نے ایسی چیز کو نشانہ بنایا جو جاندار ہو ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4446]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندار کو نشانہ بنائے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 25 (5515)، صحیح مسلم/الصید 11(1958)، (تحفة الأشراف: 7054)، مسند احمد 1/338 و2/13، 43، 60، 86، 103، 141)، سنن الدارمی/الأضاحی 13 (2016) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نشانہ بازی کے مقصد سے نشانہ بنایا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4447
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَعَنَ اللَّهُ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ اس پر لعنت فرمائے جو جانوروں کا مثلہ کرے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4447]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت فرمائے جو کسی جاندار کا مثلہ کرے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کسی جاندار کے ہاتھ پاؤں ناک اور کان وغیرہ اعضاء کو کاٹ کر اس کی شکل و صورت بگاڑ دینے کو مثلہ کہتے ہیں، مثلہ حرام ہے خواہ انسان کا ہو یا جانور کا، اور کسی حلال جانور کو ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت کی بوٹیاں بنانے کی کے مقصد سے اس کے ٹکڑے کرنا مثلہ نہیں ہے، مثلہ میں فقط شبیہ بگاڑ کر پھینک دینا مقصود ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4448
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی ایسی چیز کو نشانہ نہ بناؤ جس میں روح اور جان ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4448]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایسی چیز جس میں روح ہو اسے نشانہ نہ بناؤ۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4448]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 25 (5515م تعلیقًا)، صحیح مسلم/الصید 12 (1957)، (تحفة الأشراف: 5559)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة 1 (1475)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 10 (3187)، مسند احمد (1/216، 274، 280، 285، 291، 340، 345) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4449
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْكُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسی چیز کو نشانہ نہ بناؤ جس میں روح اور جان ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4449]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جاندار چیز کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4449]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں