سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
68. بَابُ: تَفْسِيرِ ذَلِكَ
باب: حمل والے جانور کا حمل بیچنے کی تفسیر و وضاحت۔
حدیث نمبر: 4629
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنْ بَيْعِ حَبَلِ الْحَبَلَةِ , وَكَانَ بَيْعًا يَتَبَايَعُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ , كَانَ الرَّجُلُ يَبْتَاعُ جَزُورًا إِلَى أَنْ تُنْتِجَ النَّاقَةُ , ثُمَّ تُنْتِجُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حاملہ کے حمل کی بیع سے منع فرمایا اور یہ ایسی بیع تھی جو جاہلیت کے لوگ کیا کرتے تھے، ایک شخص اونٹ خریدتا اور پیسے دینے کا وعدہ اس وقت تک کے لیے کرتا جب وہ اونٹنی جنے اور پھر اس کا بچہ جنے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4629]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «حَبَلِ الْحَبَلَةِ» ”حمل کے حمل“ کی بیع سے منع فرمایا اور یہ ایک قسم کی بیع تھی جو جاہلیت والے آپس میں کرتے تھے۔ کوئی آدمی اونٹنی خریدتا کہ اس کی قیمت اس وقت دوں گا جب یہ اونٹنی (مادہ) بچہ جنے اور پھر اس کے پیٹ والی اونٹنی (بڑی ہو کر) بچہ جنے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 61 (2143)، سنن ابی داود/البیوع 25 (3380)، (تحفة الأشراف: 8370)، موطا امام مالک/البیوع 26 (62)، مسند احمد (1/56، 63) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح