سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
107. بَابُ: الشَّرِكَةِ فِي النَّخِيلِ
باب: کھجور کے درخت میں حصہ داری اور شرکت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4704
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيُّكُمْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ فَلَا يَبِعْهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں اگر کسی کے پاس کوئی زمین یا کھجور کا درخت ہو تو اسے نہ بیچے جب تک کہ اپنے حصہ دار و شریک سے نہ پوچھ لے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4704]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس شخص کے پاس زمین یا کھجوروں کے درخت ہوں تو وہ انہیں نہ بیچے حتیٰ کہ اپنے شریک پر پیش کرے (اپنے شریک کو خریدنے کی پیش کش کرے)۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الشفعة 1 (2492)، (تحفة الأشراف: 2765)، مسند احمد (2/307) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس سے ثابت ہوا کہ درخت یا باغ میں حصہ داری جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح