سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ: ذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِخَبَرِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ فِيهِ
باب: اس سلسلہ میں علقمہ بن وائل کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 4728
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلٍ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جِيءَ بِالْقَاتِلِ يَقُودُهُ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ:" أَتَعْفُو؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" أَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ"، فَلَمَّا ذَهَبَ بِهِ، فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ:" أَتَعْفُو؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" أَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:" أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ"، فَعَفَا عَنْهُ وَتَرَكَهُ , فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب قاتل کو لایا گیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، مقتول کا ولی اسے رسی میں کھینچ کر لا رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے فرمایا: ”کیا تم معاف کرو گے؟“ وہ بولا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا دیت لو گے؟“ وہ بولا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو کیا تم قتل کرو گے؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”لے جاؤ اسے“، چنانچہ جب وہ لے کر چلا اور رخ پھیرا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا تم معاف کرو گے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا دیت لو گے؟“ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: ”تو قتل ہی کرو گے؟“ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”لے جاؤ اسے“، اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”سنو! اگر اسے معاف کرتے ہو تو وہ اپنا گناہ اور تمہارے (مقتول) آدمی کا گناہ سمیٹ لے گا“ ۱؎، چنانچہ اس نے اسے معاف کر دیا، اور اسے چھوڑ دیا، پھر میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4728]
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں موقع پر موجود تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قاتل لایا گیا جسے مقتول کا ولی ایک تندی (چمڑے کی رسی) کے ساتھ کھینچے لا رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے فرمایا: ”کیا تو معاف کرے گا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو دیت لے گا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل کرے گا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا لے جا۔“ جب وہ اس کو لے جانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا: ”کیا تو معاف کرے گا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا دیت لے گا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر قتل کرے گا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے لے جا۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! اگر تو اسے معاف کر دے تو یہ اپنے اور تیرے مقتول کے گناہوں کا بوجھ اٹھائے گا۔“ اس نے اسے معاف کر کے چھوڑ دیا۔ میں نے اسے دیکھا کہ وہ (قاتل) اپنی تندی کو گھسیٹتے ہوئے جا رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ قتل سے پہلے جو گناہ اس کے سر تھا اور قتل کے بعد جس گناہ کا وہ مرتکب ہوا ہے ان دونوں کو وہ سمیٹ لے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4729
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ الْحَبَطِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، قَالَ يَحْيَى: وَهُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ.
اس سند سے بھی وائل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی روایت کرتے ہیں۔ یحییٰ ۱؎ کہتے ہیں: یہ اس سے بہتر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4729]
ایک اور سند سے حضرت وائل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس جیسی روایت بیان کرتے ہیں۔ یحییٰ نے کہا: یہ روایت اس (سابقہ روایت) سے (سنداً) اچھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4727 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”یحییٰ“ یعنی القطان (جو راوی بھی ہیں، اور امام جرح و تعدیل بھی، وہ) فرماتے ہیں: اس حدیث کی یہ سند پچھلی سند سے بہتر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4730
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ الْحَوْضِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , جَاءَ رَجُلٌ فِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا , فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ صَاحِبِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى وَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ صَاحِبِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ:" اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى، ثُمَّ قَامَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ أُرَاهُ، قَالَ: فَضَرَبَ رَأْسَ صَاحِبِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ:" اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى، قَالَ:" اذْهَبْ , إِنْ قَتَلْتَهُ كُنْتَ مِثْلَهُ"، فَخَرَجَ بِهِ حَتَّى جَاوَزَ، فَنَادَيْنَاهُ أَمَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَجَعَ، فَقَالَ: إِنْ قَتَلْتُهُ كُنْتُ مِثْلَهُ، قَالَ: نَعَمْ، أَعْفُ , فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَةٌ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا.
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا، اس کی گردن میں رسی پڑی تھی، اور بولا: اللہ کے رسول! یہ اور میرا بھائی دونوں ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، اتنے میں اس نے کدال اٹھائی اور اپنے ساتھی یعنی میرے بھائی کے سر پر ماری، جس سے وہ مر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے معاف کر دو“، اس نے انکار کیا، اور کہا: اللہ کے نبی! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، پھر اس نے کدال اٹھائی، اور اپنے ساتھی کے سر پر ماری، جس سے وہ مر گیا، آپ نے فرمایا: ”اسے معاف کر دو“، تو اس نے انکار کیا، پھر وہ کھڑا ہوا اور بولا: اللہ کے رسول! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، اس نے کدال اٹھائی، اور اپنے ساتھی کے سر پر ماری، جس سے وہ مر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے معاف کر دو“، اس نے انکار کیا، آپ نے فرمایا: ”جاؤ، اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اسی جیسے ہو گے“ ۱؎، وہ اسے لے کر نکل گیا، جب دور نکل گیا تو ہم نے اسے پکارا، کیا تم نہیں سن رہے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ وہ واپس آیا تو آپ نے فرمایا: ”اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اسی جیسے ہو گے“، اس نے کہا: ہاں، میں اسے معاف کرتا ہوں، چنانچہ وہ نکلا، وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا تھا یہاں تک کہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4730]
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا جس کی گردن میں رسی تھی (مطلب یہ کہ ایک شخص دوسرے آدمی کو گلے میں تندی ڈال کر لایا)۔ اور (وہی لانے والا شخص) کہنے لگا: یہ اور میرا بھائی ایک کنواں کھود رہے تھے کہ اس نے کدال اٹھائی اور میرے بھائی کے سر پر دے ماری اور اسے مار دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے معاف کر دے۔“ اس نے انکار کر دیا۔ اور پھر کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں میں کھدائی کر رہے تھے تو اس نے کدال اٹھا کر اپنے ساتھی کے سر پر دے ماری اور اسے قتل کر دیا۔ آپ نے فرمایا: ”اسے معاف کر دے۔“ اس نے پھر انکار کیا۔ کچھ دیر بعد پھر اٹھا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ اور میرا بھائی دونوں ایک کنویں کی کھدائی کر رہے تھے۔ اس نے کدال اٹھائی اور اپنے ساتھی کے سر پر مار دی اور اس کی جان نکال دی۔ آپ نے فرمایا: ”اسے معاف کر دے۔“ اس نے پھر انکار کیا۔ آپ نے فرمایا: ”پھر جا (لیکن یاد رکھ کہ) اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو تو بھی اس جیسا ہی ہوگا۔“ وہ اسے لے کر چلا گیا حتیٰ کہ کافی دور نکل گیا۔ تو ہم نے اسے آواز دی کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہیں سنتا؟ وہ واپس آیا اور کہنے لگا: اگر میں نے اسے قتل کر دیا تو اس جیسا ہو جاؤں گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اسے معاف کر دے۔“ پھر (اس نے قاتل کو چھوڑ دیا تو) قاتل اپنی تندی سمیت نکل بھاگا حتیٰ کہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4827 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: کسی جان کو مارنے میں تم اور وہ ایک ہی طرح ہو گے، تمہاری اس پر کوئی فضیلت باقی نہیں رہ جائے گی، اور اگر معاف کر دو گے تو فضل و احسان میں تم کو اس پر فضیلت حاصل ہو جائے گی، خاص طور پر جب اس نے یہ قتل جان بوجھ کر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4731
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ سِمَاكٍ , ذَكَرَ أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَتَلَ هَذَا أَخِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقَتَلْتَهُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ، قَالَ: نَعَمْ قَتَلْتُهُ، قَالَ:" كَيْفَ قَتَلْتَهُ؟"، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَهُوَ نَحْتَطِبُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ مِنْ مَالٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ؟"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي إِلَّا فَأْسِي وَكِسَائِي، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتُرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ؟"، قَالَ: أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ فَرَمَى بِالنِّسْعَةِ إِلَى الرَّجُلِ، فَقَالَ: دُونَكَ صَاحِبَكَ، فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ"، فَأَدْرَكُوا الرَّجُلَ، فَقَالُوا: وَيْلَكَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ"، فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حُدِّثْتُ أَنَّكَ قُلْتَ:" إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ"، وَهَلْ أَخَذْتُهُ إِلَّا بِأَمْرِ، فَقَالَ:" مَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ , وَإِثْمِ صَاحِبِكَ"، قَالَ: بَلَى، قَالَ:" فَإِنْ ذَاكَ"، قَالَ: ذَلِكَ كَذَلِكَ.
وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک شخص دوسرے کو ایک رسی میں گھسیٹتا ہوا آیا، اور کہا: اللہ کے رسول! اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے قتل کیا ہے؟“، اس نے (لانے والے نے) کہا: اللہ کے رسول! اگر یہ اقبال جرم نہیں کرتا تو میں گواہ لاتا ہوں، اس (قاتل) نے کہا: ہاں، اسے میں نے قتل کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے تم نے کیسے قتل کیا؟“ اس نے کہا: میں اور وہ ایک درخت سے ایندھن جمع کر رہے تھے، اتنے میں اس نے مجھے گالی دی، مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے سر پر کلہاڑی مار دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے جس سے اپنی جان کے بدلے تم اس کی دیت دے سکو“، اس نے کہا: میرے پاس سوائے اس کلہاڑی اور کمبل کے کچھ نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”کیا تم سمجھتے ہو کہ تمہارا قبیلہ تمہیں خرید لے گا (یعنی تمہاری دیت دیدے گا) وہ بولا: میری اہمیت میرے قبیلہ میں اس (مال) سے بھی کمتر ہے، پھر آپ نے رسی اس شخص (ولی) کے سامنے پھینک دی اور فرمایا: ”تمہارا آدمی تمہارے سامنے ہے“، جب وہ پلٹ کر چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اسی جیسا ہو گا“، لوگوں نے اس شخص کو پکڑ کر کہا: تمہارا برا ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اسی جیسا ہو گا“، یہ سن کر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ آیا اور بولا: اللہ کے رسول! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اسی جیسا ہو گا“، میں نے تو آپ ہی کے حکم سے اسے پکڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا تم نہیں چاہتے کہ یہ تمہارا گناہ اور تمہارے آدمی کا گناہ سمیٹ لے؟“، اس نے کہا: کیوں نہیں؟ آپ نے فرمایا: ”تو یہی ہو گا“، اس نے کہا: تو ایسا ہی سہی (میں اسے چھوڑ دیتا ہوں)۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4731]
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی ایک دوسرے آدمی کو تندی (چمڑے کی رسی) کے ساتھ کھینچتا ہوا آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اس نے میرے بھائی کو قتل کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (دوسرے آدمی) سے پوچھا: ”کیا تو نے اسے قتل کیا ہے؟“ پہلا آدمی کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اگر یہ نہ مانے تو میں گواہ پیش کروں گا۔ دوسرے آدمی نے کہا: ہاں، میں نے اسے قتل کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”کیسے قتل کیا؟“ اس نے کہا: میں اور وہ ایک درخت سے ایندھن کے لیے لکڑیاں کاٹ رہے تھے۔ اس نے مجھے گالی دے کر غصہ دلا دیا تو میں نے کلہاڑا اس کے سر کی چوٹی پر دے مارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تیرے پاس اتنا مال ہے جو تو اپنی جان بچانے کے لیے ادا کرے؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس تو میرے کلہاڑے اور میری چادر کے سوا کچھ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا خیال ہے تیری قوم تجھے خرید لے گی؟ (تیری دیت دے کر تجھے بچا لے گی؟)“ اس نے کہا: میں اپنی قوم کے نزدیک اس سے کم مرتبہ ہوں۔ آپ نے اس کی رسی پہلے آدمی کی طرف پھینک دی اور فرمایا: ”لو اپنے قاتل کو سنبھالو۔“ جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اس جیسا ہی ہوگا۔“ لوگ جا کر اس آدمی کو ملے اور کہا: تجھ پر افسوس! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اگر اس نے اسے قتل کر دیا تو وہ اس جیسا ہی ہوگا۔“ وہ آدمی واپس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے: ”اگر اس (میں) نے اسے قتل کر دیا تو یہ بھی اس جیسا ہی ہوگا۔“ حالانکہ میں نے تو اسے آپ کے فرمان سے پکڑا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تو نہیں چاہتا کہ یہ شخص تیرا اور تیرے مقتول کا گناہ سمیٹ لے۔ (تمہارے گناہوں کی معافی کا سبب بن جائے؟)“ اس نے کہا: کیوں نہیں، پھر کہا: اگر یہ بات ہے تو میں معاف کر دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ اسی طرح ہے جس طرح میں نے کہا، یعنی وہ تیرے اور تیرے مقتول کے گناہ اٹھائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4727 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4732
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، قَالَ: إِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ , نَحْوَهُ.
وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک شخص دوسرے کو گھسیٹتا ہوا آیا، پھر (آگے حدیث) اسی طرح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4732]
وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی ایک دوسرے شخص کو کھینچتا ہوا لایا۔ باقی روایت مذکورہ روایت کے ہم معنیٰ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4727 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4733
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُمْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ قَتَلَ رَجُلًا , فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ يَقْتُلُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجُلَسَائِهِ:" الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ"، قَالَ: فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ، فَلَمَّا أَخْبَرَهُ تَرَكَهُ، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ حِينَ تَرَكَهُ يَذْهَبُ. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِحَبِيبٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَشْوَعَ، قَالَ: وَذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الرَّجُلَ بِالْعَفْوِ.
وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا، اس نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، چنانچہ آپ نے اسے قتل کرنے کے لیے مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا، پھر آپ نے اپنے ساتھ بیٹھنے والوں سے فرمایا: ”قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے“ ۱؎، ایک شخص اس وارث کے پیچھے گیا اور اسے خبر دی، جب اسے یہ معلوم ہوا تو اس نے قاتل کو چھوڑ دیا، جب اس نے قاتل کو چھوڑ دیا تاکہ وہ چلا جائے تو میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا ہے۔ میں نے اس کا ذکر حبیب سے کیا تو انہوں نے کہا: مجھ سے سعید بن اشوع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: انہوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو معاف کرنے کا حکم دیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4733]
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے ایک آدمی کو قتل کر دیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مقتول کے ولی کے سپرد فرما دیا کہ (چاہے تو) قتل کر دے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہم نشینوں سے کہا: ”قاتل مقتول دونوں آگ میں جائیں گے۔“ ایک آدمی اس کے پیچھے گیا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی خبر دی، جب اس نے اس کو یہ بتایا تو اس نے اسے چھوڑ دیا، جب اس نے چھوڑا تو میں نے دیکھا کہ وہ رسی گھسیٹتے ہوئے بھاگا جا رہا تھا، «فَذَكَرْتُ ذٰلِكَ لِحَبِيْبٍ فَقَالَ… الخ» ”میں نے یہ روایت حبیب سے بیان کی تو اس نے کہا: مجھ سے سعید بن اشوع نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو معاف کرنے کا حکم دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4733]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4727 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ بات آپ نے خاص ان دونوں کے بارے میں نہیں کہی تھی، کیونکہ اس میں نہ تو مذکورہ مقتول کا کوئی قصور تھا، نہ ہی اس کے ولی کا جو اس کو بدلے میں قتل کرتا بلکہ آپ نے ولی کو معافی پر ابھارنے کے لیے یہ جملہ فرمایا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4734
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى بِقَاتِلِ وَلِيِّهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى، فَقَالَ:" خُذْ الدِّيَةَ"، فَأَبَى، قَالَ:" اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ , فَإِنَّكَ مِثْلُهُ"، فَذَهَبَ فَلُحِقَ الرَّجُلُ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ"، فَخَلَّى سَبِيلَهُ فَمَرَّ بِي الرَّجُلُ وَهُوَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنے آدمی کے قاتل کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اس سے فرمایا: ”اسے معاف کر دو“، اس نے انکار کیا، تو آپ نے فرمایا: ”دیت لے لو“، اس نے انکار کیا تو آپ نے فرمایا: ”جاؤ، اسے قتل کر دو، تم بھی اسی جیسے ہو جاؤ گے (گناہ میں)“، جب وہ قتل کرنے چلا تو کوئی اس شخص سے ملا اور اس سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، ”(اگر) اسے قتل کر دو، تم بھی اسی طرح ہو جاؤ گے“، چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا، تو وہ شخص (یعنی قاتل جسے معاف کیا گیا) میرے پاس سے اپنی رسی گھسیٹتے ہوئے گزرا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4734]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنے رشتہ دار کے قاتل کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے معاف کر دے۔“ اس نے انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دیت لے لو۔“ اس نے پھر انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا پھر اسے قتل کر دے، تو بھی اس جیسا ہی ہے۔“ وہ اسے لے گیا۔ پیچھے سے کوئی آدمی اسے جا کر ملا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اسے قتل کر دے، تو تو بھی اس جیسا ہی ہو گا۔“ تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ آدمی (قاتل) میرے پاس سے گزرا اس حال میں کہ وہ رسی گھسیٹتا ہوا بھاگا جا رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «قش/الدیات 34 (2691)، (تحفة الأشراف: 451) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4735
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْحَاق الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَتَلَ أَخِي، قَالَ:" اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ كَمَا قَتَلَ أَخَاكَ"، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: اتَّقِ اللَّهَ وَاعْفُ عَنِّي فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأَجْرِكَ وَخَيْرٌ لَكَ وَلِأَخِيكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: فَخَلَّى عَنْهُ، قَالَ: فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ لَهُ: قَالَ:" فَأَعْنَفَهُ , أَمَا إِنَّهُ كَانَ خَيْرًا مِمَّا هُوَ صَانِعٌ بِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , يَقُولُ: يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي".
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ اس شخص نے میرے بھائی کو مار ڈالا، آپ نے فرمایا: ”جاؤ اسے بھی مار ڈالو جیسا کہ اس نے تمہارے بھائی کو مارا ہے“، اس شخص نے اس سے کہا: اللہ سے ڈرو اور مجھے معاف کر دو، اس میں تمہیں زیادہ ثواب ملے گا اور یہ قیامت کے دن تمہارے لیے اور تمہارے بھائی کے لیے بہتر ہو گا، یہ سن کر اس نے اسے چھوڑ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی، آپ نے اس سے پوچھا تو اس نے جو کہا تھا، آپ سے بیان کیا، آپ نے اس سے زور سے فرمایا: ”سنو! یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے جو وہ قیامت کے دن تمہارے ساتھ معاملہ کرتا، وہ کہے گا (قیامت کے دن) اے میرے رب! اس سے پوچھ اس نے مجھے کس جرم میں قتل کیا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4735]
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اس آدمی نے میرے بھائی کو قتل کر ڈالا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جا اسے قتل کر دے، جیسے اس نے تیرے بھائی کو قتل کیا ہے۔“ وہ آدمی (قاتل) کہنے لگا: ”اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور مجھے معاف کر دو، اس سے تجھے بہت ثواب ملے گا اور یہ (معافی) تیرے اور تیرے بھائی کے لیے قیامت کے دن بہت اچھی ثابت ہوگی۔“ اس نے اسے چھوڑ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاتل سے پوچھا تو اس نے مقتول کے وارث سے جو کہا تھا آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈانٹا (اور فرمایا:) ”تیرا قتل ہو جانا اس سلوک سے بہتر تھا جو مقتول قیامت کے دن تجھ سے کرے گا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! اس سے پوچھیے کہ اس نے کس بنا پر مجھے قتل کیا تھا؟“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1951) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”بشیر“ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یہ واقعہ مذکورہ واقعہ کے علاوہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن