🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

41. بَابُ: هَلْ يُؤْخَذُ أَحَدٌ بِجَرِيرَةِ غَيْرِهِ
باب: کیا کسی کو دوسرے کے جرم میں گرفتار کیا جا سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4836
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا مَعَكَ؟" , قَالَ: ابْنِي , أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ:" أَمَا إِنَّكَ لَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ".
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے فرمایا: یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: یہ میرا بیٹا ہے، میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا قصور اس پر نہیں اور اس کا قصور تم پر نہیں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4836]
حضرت ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوا۔ آپ نے (میرے والد سے) فرمایا: یہ تیرے ساتھ کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں، یہ میرا بیٹا ہے۔ آپ نے فرمایا: خبردار! تیرے جرم کا یہ ذمہ دار نہیں اور تو اس کے جرم کا ذمہ دار نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات2(4208)، (تحفة الأشراف: 12037)، مسند احمد (4/163) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تم دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے جرم میں ماخوذ نہیں کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4837
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ الْيَرْبُوعِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فِي أُنَاسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهَتَفَ بِصَوْتِهِ:" أَلَا لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى الْأُخْرَى".
ثعلبہ بن زہدم یربوعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے کچھ لوگوں کو خطاب کر رہے تھے، لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع کے بیٹے ہیں، انہوں نے فلاں کو جاہلیت میں قتل کیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور آپ کی آواز بہت بلند تھی: سنو! کسی جان کا قصور کسی دوسری جان پر نہیں ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4837]
حضرت ثعلبہ بن زہدم یربوعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک گروہ میں خطاب فرما رہے تھے۔ انصار کہنے لگے: ان بنو ثعلبہ بن یربوع نے جاہلیت میں فلاں شخص کو قتل کر دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز بلند کرتے ہوئے فرمایا: آگاہ رہو! کوئی شخص کسی دوسرے کے جرم کا ذمہ دار نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4837]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 2072)، مسند احمد (4/64-65 و5/377)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 4837-4842) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4838
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، قَالَ: انْتَهَى قَوْمٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى".
ثعلبہ بن زہدم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بنی ثعلبہ کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، آپ خطبہ دے رہے تھے، ایک شخص بولا: اللہ کے رسول! یہ ثعلبہ بن یربوع کے بیٹے ہیں، انہوں نے صحابہ رسول میں سے فلاں کو جاہلیت میں قتل کیا تھا۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نفس کا قصور کسی دوسرے پر نہیں ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4838]
حضرت ثعلبہ بن زہدم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: بنو ثعلبہ کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے جبکہ آپ خطاب فرما رہے تھے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان بنو ثعلبہ بن یربوع نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فلاں صحابی کو قتل کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے جرم کا کوئی دوسرا شخص ذمہ دار نہیں ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4838]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4839
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ: أَنَّ نَاسًا مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ قَتَلُوا فُلَانًا , رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى".
بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص سے روایت ہے کہ بنی ثعلبہ کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع ہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے فلاں کو قتل کیا تھا، آپ نے فرمایا: کسی نفس کا قصور کسی دوسرے نفس پر نہیں ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4839]
بنو ثعلبہ بن یربوع (قبیلے) میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ بنو ثعلبہ کے کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان بنو ثعلبہ بن یربوع نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فلاں صحابی کو قتل کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص کسی دوسرے کے جرم کا ذمہ دار نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4839]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4840
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ: أَنَّ نَاسًا مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ أَصَابُوا رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ قَتَلَتْ فُلَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى"، قَالَ شُعْبَةُ: أَيْ لَا يُؤْخَذُ أَحَدٌ بِأَحَدٍ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
اسود بن ہلال (انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد پایا تھا) بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ بنو ثعلبہ کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص کو ہلاک کر دیا تھا۔ تو ایک صحابی رسول نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی ثعلبہ ہیں، جنہوں نے فلاں کو قتل کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نفس کا قصور کسی دوسرے پر نہیں ہو گا۔ شعبہ کہتے ہیں: یعنی کسی کے بدلے کسی اور سے مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔ واللہ اعلم۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4840]
بنو ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص سے روایت ہے کہ بنو ثعلبہ کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ ہیں، انھوں نے فلاں (صحابی) کو قتل کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کا جرم کسی دوسرے کے نام نہیں لگ سکتا۔ (راویِ حدیث) شعبہ رحمہ اللہ نے کہا: یعنی کسی کو کسی اور شخص کے جرم میں گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4840]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4841
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ الَّذِينَ أَصَابُوا فُلَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَعْنِي لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى نَفْسٍ".
بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ گفتگو فرما رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یعنی کسی کا قصور کسی پر نہیں ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4841]
بنو ثعلبہ بن یربوع کے ایک آدمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا جبکہ آپ خطاب فرما رہے تھے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان بنو ثعلبہ بن یربوع نے فلاں شخص (صحابی رسول رضی اللہ عنہ) کو قتل کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ یعنی کسی شخص کا جرم کسی دوسرے پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4841]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4842
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي يَرْبُوعٍ، قَالَ: أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُكَلِّمُ النَّاسَ , فَقَامَ إِلَيْهِ نَاسٌ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَؤُلَاءِ بَنُو فُلَانٍ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى أُخْرَى".
بنی یربوع کے ایک شخص کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ لوگوں سے گفتگو فرما رہے تھے، کچھ لوگوں نے آپ کے سامنے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی فلاں ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا تھا، تو آپ نے فرمایا: کسی نفس پر کسی کا قصور نہیں ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4842]
بنی یربوع کے ایک آدمی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے۔ (ہمیں دیکھ کر) کچھ لوگ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! یہ فلاں قبیلے کے لوگ ہیں، انہوں نے فلاں صحابی کو قتل کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی ایک شخص کا جرم دوسرے کے ذمے نہیں لگایا جا سکتا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4842]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4843
أخبرنا يوسف بن عيسى قال أنبأنا الفضل بن موسى قال أنبأنا يزيد وهو بن زياد بن أبي الجعد عن جامع بن شداد عن طارق المحاربي أن رجلا قال: يا رسول الله هؤلاء بنو ثعلبة الذين قتلوا فلانا في الجاهلية فخذ لنا بثأرنا فرفع يديه حتى رأيت بياض إبطيه وهو يقول لا تجني أم على ولد مرتين
طارق محاربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ ہیں جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں فلاں کو قتل کیا تھا، لہٰذا آپ ہمارا بدلہ دلائیے، تو آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغل کی سفیدی دیکھی، آپ فرما رہے تھے: کسی ماں کا قصور کسی بیٹے پر نہیں ہو گا ایسا آپ نے دو مرتبہ کہا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4843]
حضرت طارق محاربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بنو ثعلبہ ہیں جنہوں نے اپنے دورِ جاہلیت میں فلاں کو قتل کیا تھا۔ ان سے ہمیں قصاص دلوا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک اٹھائے حتیٰ کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ فرمایا: «لَا تَجْنِي أُمٌّ عَلَى وَلَدٍ» کسی ماں کا جرم اس کے بیٹے کے گلے نہیں پڑتا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4843]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4989)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الدیات 26 (2670) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں