سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ: مَاجَائَ فِي الْمُعَوِسذَتَيْنِ
باب: معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5440
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ"، فَقُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , فَسَكَتَ عَنِّي، ثُمَّ قَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ"، قُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , فَسَكَتَ عَنِّي، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ ارْدُدْهُ عَلَيَّ، فَقَالَ:" يَا عُقْبَةُ , قُلْ"، قُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ" , فَقَرَأْتُهَا حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا، ثُمَّ قَالَ:" قُلْ"، قُلْتُ: مَاذَا أَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" , فَقَرَأْتُهَا حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:" مَا سَأَلَ سَائِلٌ بِمِثْلِهِمَا , وَلَا اسْتَعَاذَ مُسْتَعِيذٌ بِمِثْلِهِمَا".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، تو آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کہو“، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، پھر فرمایا: ”عقبہ! کہو“، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ اللہ کے رسول! آپ خاموش رہے، میں نے کہا: اللہ کرے آپ اسے پھر دہرائیں، آپ نے فرمایا: ”عقبہ! کہو“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کیا کہوں؟ آپ نے فرمایا: «قل أعوذ برب الفلق» میں نے اسے پڑھا یہاں تک کہ اسے مکمل کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”کہو“، میں نے عرض کیا: کیا کہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ” «قل أعوذ برب الفلق» “، پھر میں نے اسے بھی مکمل پڑھا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مانگنے والے نے اس جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ نہیں مانگا اور نہ کسی پناہ مانگنے والے نے اس جیسی کسی اور چیز کے ذریعہ پناہ مانگی“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5440]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ نے فرمایا: ”اے عقبہ! پڑھ۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا پڑھوں؟ آپ خاموش ہو گئے۔ پھر فرمایا: ”اے عقبہ! کہہ۔“ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا کہوں؟ آپ پھر خاموش ہو گئے۔ میں نے (دل میں) کہا: یا اللہ! آپ کو میری طرف متوجہ فرما۔ آپ نے فرمایا: ”اے عقبہ! پڑھ۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: ”سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] “ میں نے سورت پڑھنا شروع کی حتیٰ کہ مکمل کر دی۔ پھر آپ نے فرمایا: ”پڑھ۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: ”سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] ۔“ اس وقت میں نے آخر تک پوری پڑھ دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی سوال کرنے والے نے ان جیسی سورتوں کے ساتھ سوال نہیں کیا اور نہ کسی پناہ طلب کرنے والے نے ان جیسی سورتوں کے ساتھ پناہ طلب کی ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9927)، سنن الدارمی/فضائل القرآن 24 (3482) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5441
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ أَسْلَمَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِبٌ , فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى قَدَمِهِ , فَقُلْتُ: أَقْرِئْنِي سُورَةَ هُودٍ، أَقْرِئْنِي سُورَةَ يُوسُفَ، فَقَالَ:" لَنْ تَقْرَأَ شَيْئًا أَبْلَغَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ کے پاؤں پر رکھا، میں نے عرض کیا: مجھے سورۃ ہود پڑھایئے، مجھے سورۃ یوسف پڑھایئے، آپ نے فرمایا: ”تم اللہ کے نزدیک «قل أعوذ برب الفلق» سے زیادہ بہتر کوئی اور سورۃ نہیں پڑھو گے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5441]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا جبکہ آپ سوار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک پر رکھ دیا اور عرض کی: مجھے سورہ ہود پڑھائیے، مجھے سورہ یوسف پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کوئی ایسی سورت نہیں پڑھے گا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور سورہ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] سے زیادہ عظمت والی ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 954 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5442
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا قَيْسٌ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أُنْزِلَ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ , وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ".
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر کچھ ایسی آیات نازل ہوئی ہیں کہ ان جیسی آیات پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں، «قل أعوذ برب الفلق» پوری سورت اور «قل أعوذ برب الناس» “ پوری سورۃ۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5442]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر ایسی آیات اتاری گئی ہیں کہ (استعاذہ کے سلسلے میں) کوئی اور آیات ان جیسی نہیں ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] آخر سورت اور ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] آخر تک۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 955 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5443
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَدَلٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو طَلْحَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ يَا جَابِرُ"، قُلْتُ: وَمَاذَا أَقْرَأُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" اقْرَأْ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ" , فَقَرَأْتُهُمَا، فَقَالَ:" اقْرَأْ بِهِمَا وَلَنْ تَقْرَأَ بِمِثْلِهِمَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر! پڑھو“، میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں کیا پڑھوں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”پڑھو «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» “ میں نے یہ دونوں سورتیں پڑھیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:: ”انہیں پڑھا کرو، تم ان جیسی سورتیں ہرگز نہ پڑھو گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5443]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جابر! پڑھو۔“ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہو جائیں، اے اللہ کے رسول! میں کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا: ”سورۂ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ﴾ [سورة الفلق: 1] اور سورۂ ﴿قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ﴾ [سورة الناس: 1] پڑھ۔“ میں نے دونوں سورتیں پڑھیں تو آپ نے فرمایا: ”ان کو پڑھا کر اور (یاد رکھ کہ) تو (استعاذے کے بارے میں) ان جیسی کوئی اور سورت نہیں پڑھے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3111) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن