🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْحَزَنِ
باب: حزن و ملال (رنج و غم) سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5455
أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ السِّجِسْتَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ شَيْخٌ ضَعِيفٌ، وَإِنَّمَا أَخْرَجْنَاهُ لِلزِّيَادَةِ فِي الْحَدِيثِ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو فرماتے: «اللہم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل والجبن وضلع الدين وغلبة الرجال» اللہ! میں حزن و ملال، رنج و غم، عاجزی و کاہلی، کنجوسی و بزدلی، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: سعید بن سلمہ ضعیف ہیں ۱؎۔ ہم نے ان کی روایت اس لیے بیان کی ہے کہ اس کی سند (ایک راوی کا) اضافہ ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5455]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو یوں فرماتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ» اے اللہ! میں فکر و غم، عجز و کاہلی، کنجوسی و بزدلی، قرض کے شدید بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ ابو عبدالرحمٰن (امام نسائی رحمہ اللہ) نے کہا: (اس حدیث کی سند کا راوی) سعید بن سلمہ ضعیف ہے۔ (ضعیف روایت ہونے کے باوجود) ہم نے یہ روایت اس لیے بیان کی ہے کہ اس میں (کچھ عبارت) زیادہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5455]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 976) (صحیح) (اس کے راوی ”عبداللہ بن المطلب“ مجہول ہیں، لیکن ان کے بغیر سند متصل ہے جیسا کہ نمبر 5452 میں ہے)»
وضاحت: ۱؎: جب حفظ سے روایت کریں تب ضعیف ہیں، ورنہ صحیح الکتاب ہیں۔ ۲؎: اور وہ عبداللہ بن عبدالمطلب ہیں، لیکن سند حدیث نمبر ۵۴۵۲ میں ان کا اضافہ نہیں ہے، اور اس اضافہ کے بغیر بھی سند متصل ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں