سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنْ دُعَاءٍ لاَ يُسْتَجَابُ
باب: نہ قبول ہونے والی دعا سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5540
أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كَانَ إِذَا قِيلَ لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ: حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا بِهِ، وَيَأْمُرُنَا أَنْ نَقُولَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَالْهَرَمِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَدَعْوَةٍ لَا تُسْتَجَابُ".
عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ جب زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا جاتا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنایئے جو آپ نے خود سنی ہو تو وہ کہتے: میں تم سے وہی بیان کر رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان کیا، آپ ہمیں حکم دیتے کہ ہم کہیں: «اللہم إني أعوذ بك من العجز والكسل والبخل والجبن والهرم وعذاب القبر اللہم آت نفسي تقواها وزكها أنت خير من زكاها أنت وليها ومولاها اللہم إني أعوذ بك من نفس لا تشبع ومن قلب لا يخشع ومن علم لا ينفع ودعوة لا تستجاب» ”اے اللہ! عاجزی، سستی، بخیلی، بزدلی، بڑھاپے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اے اللہ! تو میرے نفس کو تقویٰ عطا کر، اسے پاک کر دے، تو ہی سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے، تو اس کا سر پرست اور مولا ہے، اے اللہ! میں ایسے نفس سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو سیر نہ ہو، ایسے دل سے جس میں خوف الٰہی نہ ہو، ایسے علم سے جو مفید اور نفع بخش نہ ہو اور ایسی دعا ہے جو قبول نہ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5540]
حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا جاتا کہ ہمیں کوئی ایسی چیز بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہو تو وہ فرماتے: میں تمہیں وہی چیز بیان کروں گا جو ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ کلمات پڑھنے کا حکم دیتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَابُ لَهَا» ”اے اللہ! میں نکمے پن، کاہلی، کنجوسی، بزدلی، شدید بڑھاپے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ اے اللہ! میرے نفس کو تقویٰ عطا فرما اور اس کو پاکیزہ فرما کیونکہ تو بہترین پاکیزہ فرمانے والا ہے، تو ہی اس کا دوست اور مالک ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو مفید نہ ہو، اس دل سے جو خشوع و خضوع والا نہ ہو، اس نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5540]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5460 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 5541
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ، قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر سے نکلتے تو فرماتے: «بسم اللہ رب أعوذ بك من أن أزل أو أضل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل على» ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ مجھ سے غلطی ہو جائے، یا بھٹک جاؤں، یا ظلم کروں، یا مظلوم بنوں، یا جہالت کروں، یا کوئی مجھ سے جہالت سے پیش آئے“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5541]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو فرماتے: «بِسْمِ اللّٰهِ، رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ» ”اللہ تعالیٰ کے نام کی برکت سے، اے میرے رب! میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں پھسل جاؤں (کوئی لغزش اور غلطی کروں) یا گمراہ ہو جاؤں یا میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے یا میں کسی کے ساتھ نامناسب سلوک کروں یا مجھ سے نامناسب سلوک کیا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5488 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (5488) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 364