سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. بَابُ: ذِكْرِ مَا أَعَدَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِشَارِبِ الْمُسْكِرِ
باب: نشہ لانے والی چیزیں پینے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے تیار کردہ عذاب، ذلت و رسوائی کا ذکر۔
حدیث نمبر: 5712
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ , عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ جَيْشَانَ , وَجَيْشَانُ مِنْ الْيَمَنِ قَدِمَ , فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ , يُقَالُ لَهُ: الْمِزْرُ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمُسْكِرٌ هُوَ؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَهِدَ لِمَنْ شَرِبَ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ:" عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ" , أَوْ قَالَ:" عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ".
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جیشان کا ایک شخص (جیشان یمن کا ایک قبیلہ ہے) آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مکئی کے بنے اس مشروب کے بارے میں پوچھا جسے وہ اپنے ملک میں پیتے تھے اور اسے «مزر» کہتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا وہ نشہ لاتا ہے؟ وہ بولا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے، اللہ تعالیٰ نے یہ طے کر دیا ہے کہ جو نشہ لانے والی چیز پیئے گا تو اللہ تعالیٰ اسے «طینۃ الخبال» پلائے گا“، لوگوں نے عرض کیا: یہ «طینۃ الخبال» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جہنمیوں کا پسینہ، یا فرمایا: ”جہنمیوں کا مواد“۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5712]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی جیشان سے آیا اور جیشان یمن میں ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے لگا کہ ہمارے علاقے میں لوگ ایک مشروب پیتے ہیں جو وہ چینے سے تیار کرتے ہیں، اسے مزر کہا جاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے قسم کھا رکھی ہے کہ جو شخص نشہ آور مشروب پیے گا، اللہ تعالیٰ اسے «طِينَةَ الْخَبَالِ» ”طینۃ الخبال“ پلائے گا۔“ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! «طِينَةُ الْخَبَالِ» ”طینۃ الخبال“ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنمیوں کا پسینہ“ یا فرمایا ”جہنمیوں کا پیپ“ (جو ان کے زخموں سے نکلے گا)۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5712]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 7 (2002)، (تحفة الأشراف: 2891)، مسند احمد (3/361) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم