🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

53. بَابُ: ذِكْرِ مَا يَجُوزُ شُرْبُهُ مِنَ الطِّلاَءِ وَمَا لاَ يَجُوزُ
باب: کون سا طلاء پینا جائز ہے اور کون سا ناجائز؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5728
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ , قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ: عَمَّا يُطْبَخُ مِنَ الْعَصِيرِ؟ قَالَ:" مَا تَطْبُخُهُ حَتَّى يَذْهَبَ الثُّلُثَانِ وَيَبْقَى الثُّلُثُ".
بشیر بن مہاجر کہتے ہیں کہ میں نے حسن (حسن بصری) سے پوچھا: شیرہ (رس) کس قدر پکایا جائے۔ انہوں نے کہا: اس وقت تک پکاؤ کہ اس کا دو تہائی جل جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5728]
بشیر بن مہاجر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے حسن بصری رحمہ اللہ سے انگوروں کے پکے ہوئے جوس کے بارے میں پوچھا کہ کون سا جائز ہے؟ انہوں نے فرمایا: جسے اتنا پکایا جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 18503) (حسن الإسناد مقطوع)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5729
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ أَوْسٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ:" إِنَّ نُوحًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَازَعَهُ الشَّيْطَانُ فِي عُودِ الْكَرْمِ , فَقَالَ: هَذَا لِي , وَقَالَ: هَذَا لِي , فَاصْطَلَحَا عَلَى أَنَّ لِنُوحٍ ثُلُثَهَا , وَلِلشَّيْطَانِ ثُلُثَيْهَا".
انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا: نوح علیہ السلام سے شیطان نے انگور کے پودے کے بارے میں جھگڑا کیا، اس نے کہا: یہ میرا ہے، انہوں نے کہا: یہ میرا ہے، پھر دونوں میں صلح ہوئی اس پر کہ نوح علیہ السلام کا ایک تہائی ہے اور شیطان کا دو تہائی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5729]
حضرت انس بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ حضرت نوح علیہ السلام سے شیطان نے انگور کی بیل کے بارے میں جھگڑا کیا۔ انہوں نے فرمایا: یہ میری ہے۔ شیطان نے کہا: یہ میری ہے۔ آخر دونوں نے اس بات پر صلح کر لی کہ ایک تہائی حضرت نوح علیہ السلام کی ہو گی اور دو تہائی شیطان کی۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 237) (حسن الإسناد) (یہ اثر اسرائیلیات سے قریب ہے)»
وضاحت: ۱؎: اسی طرف عمر رضی اللہ عنہ کا اشارہ تھا۔ (دیکھئیے نمبر ۵۷۲۰)
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد موقوف وهو بالإسرائيليات أشبه
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5730
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ طُفَيْلٍ الْجَزَرِيِّ , قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ:" أَنْ لَا تَشْرَبُوا مِنَ الطِّلَاءِ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَيَبْقَى ثُلُثُهُ , وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
عبدالملک بن طفیل جزری کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے ہمیں لکھا: طلاء مت پیو، جب تک کہ اس کا دو تہائی جل نہ جائے اور ایک تہائی باقی نہ رہ جائے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5730]
عبدالملک بن طفیل جزری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ہمیں لکھا کہ طلاء نہ پیو حتیٰ کہ اس میں دو تہائی خشک ہو جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔ اور (یاد رکھو) ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ (خواہ وہ طلاء ہی ہو)۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5603 (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عبدالملک مجہول ہیں، لیکن اس معنی کی پچھلی اگلی روایات صحیح ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، ضعيف، تقدم (5603) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 368

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5731
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ , عَنْ بُرْدٍ , عَنْ مَكْحُولٍ , قَالَ:" كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ".
مکحول کہتے ہیں: ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5731]
حضرت مکحول رحمہ اللہ نے کہا کہ: ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الٔاشراف: 19460) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع غير أن المتن صحيح موصولا
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں