🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. بَابُ مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ
باب: عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 63
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي حَاجِبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ فَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ". قال: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ. قال أبو عيسى: وَكَرِهَ بَعْضُ الْفُقَهَاءِ الْوُضُوءَ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق: كَرِهَا فَضْلَ طَهُورِهَا وَلَمْ يَرَيَا بِفَضْلِ سُؤْرِهَا بَأْسًا.
قبیلہ بنی غفار کے ایک آدمی (حکم بن عمرو) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے (وضو کرنے سے) منع فرمایا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں عبداللہ بن سرجس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۲- بعض فقہاء نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ان دونوں نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے لیکن اس کے جھوٹے کے استعمال میں ان دونوں نے کوئی حرج نہیں جانا۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 63]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الطہارة40 (82) سنن النسائی/المیاہ12 (345) سنن ابن ماجہ/الطہارة 34 (373) (تحفة الأشراف: 3421)، مسند احمد (4/213، 665) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (373)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 64
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ " , أَوْ قَالَ: " بِسُؤْرِهَا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَأَبُو حَاجِبٍ اسْمُهُ: سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ " , وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ.
حکم بن عمرو غفاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو منع فرمایا ہے، یا فرمایا: عورت کے جھوٹے سے وضو کرے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اور محمد بن بشار اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے ۱؎، اور محمد بن بشار نے اس روایت میں - «أو بسؤرها» والا شک بیان نہیں کیا ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 64]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظرما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس نہی سے نہی تنزیہی مراد ہے، یعنی نہ استعمال کرنا بہتر ہے، اس پر قرینہ وہ احادیث ہیں جو جواز پر دلالت کرتی ہیں، یا یہ ممانعت محمول ہو گی اس پانی پر جو اعضائے وضو سے گرتا ہے کیونکہ وہ «ماء» مستعمل استعمال ہوا پانی ہے۔
۲؎: مطلب یہ کہ محمود بن غیلان کی روایت شک کے صیغے کے ساتھ ہے اور محمد بن بشار کی بغیر شک کے صیغے سے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح انظر ما قبله (63)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں