صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ الإِطْعَامُ فِي الْفِدْيَةِ نِصْفُ صَاعٍ:
باب: فدیہ میں ہر فقیر کو آدھا صاع غلہ دینا۔
حدیث نمبر: 1816
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْفِدْيَةِ، فَقَالَ:" نَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً، وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً، حُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: مَا كُنْتُ أُرَى الْوَجَعَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى، أَوْ مَا كُنْتُ أُرَى الْجَهْدَ بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى تَجِدُ شَاةً؟ فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ: فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفَ صَاعٍ".
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن اصبہانی نے، ان سے عبداللہ بن معقل نے بیان کیا کہ میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے ان سے فدیہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ (قرآن شریف کی آیت) اگرچہ خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی لیکن اس کا حکم تم سب کے لیے ہے۔ ہوا یہ کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو جوئیں سر سے میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ دیکھ کر فرمایا) میں نہیں سمجھتا تھا کہ تمہیں اتنی زیادہ تکلیف ہو گی یا (آپ نے یوں فرمایا کہ) میں نہیں سمجھتا تھا کہ جہد (مشقت) تمہیں اس حد تک ہو گی، کیا تجھ میں بکری (بطور فدیہ) دینے کی طاقت ہے؟ میں نے کہا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تین دن کے روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا، ہر مسکین کو آدھا صاع کھلانا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمُحْصَرِ/حدیث: 1816]
حضرت عبداللہ بن معقل سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا اور ان سے فدیے کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: مذکورہ (فدیے والی) آیت کریمہ میرے حق میں خاص طور پر نازل ہوئی، البتہ اس کا حکم تمہارے لیے عام ہے۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس حالت میں لایا گیا کہ جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یقین نہیں تھا کہ تمہاری تکلیف اس حد تک پہنچ گئی ہوگی۔ کیا تجھے بکری مل جائے گی؟“ میں نے عرض کیا: نہیں! آپ نے فرمایا: ”تین دن کے روزے رکھو یا چھ مساکین کو کھانا کھلاؤ، ہر مسکین کو نصف صاع دو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمُحْصَرِ/حدیث: 1816]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة