🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

146. باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ مَا يُصَلَّى إِلَيْهِ وَفِيهِ
باب: جن چیزوں کی طرف یا جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 346
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى أَنْ يُصَلَّى فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ: فِي الْمَزْبَلَةِ، وَالْمَجْزَرَةِ، وَالْمَقْبَرَةِ، وَقَارِعَةِ الطَّرِيقِ، وَفِي الْحَمَّامِ، وَفِي مَعَاطِنِ الْإِبِلِ، وَفَوْقَ ظَهْرِ بَيْتِ اللَّهِ ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: کوڑا کرکٹ ڈالنے کی جگہ میں، مذبح میں، قبرستان میں، عام راستوں پر، حمام (غسل خانہ) میں اونٹ باندھنے کی جگہ میں اور بیت اللہ کی چھت پر۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 346]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المساجد 4 (746)، (تحفة الأشراف: 7660) (ضعیف) (سند میں زید بن جبیرہ متروک الحدیث ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (746) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (161) نحوه، الإرواء (287) //
قال الشيخ زبير على زئي:(346 ، 347) ضعيف/ جه 746
زيد بن جبيرة متروك (تق : 2122) وحدث عن داؤد بن الحصين بحديث منكر جدًا وللحديث شاھد ضعيف عند ابن ماجه (747)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 347
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي مَرْثَدٍ , وَجَابِرٍ، وَأَنَسٍ أَبُو مَرْثَدٍ اسْمُهُ: كَنَّازُ بْنُ حُصَيْنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ إِسْنَادُهُ لَيْسَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ، وَقَدْ تُكُلِّمَ فِي زَيْدِ بْنِ جَبِيرَةَ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَزَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ الْكُوفِيُّ أَثْبَتُ مِنْ هَذَا وَأَقْدَمُ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْ ابْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رَوَى اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَحَدِيثُ دَاوُدَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهُ وَأَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ.
اس سند سے بھی اس مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی سند کوئی زیادہ قوی نہیں ہے، زید بن جبیرۃ کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے،
۲- زید بن جبیر کوفی ان سے زیادہ قوی اور ان سے پہلے کے ہیں انہوں نے ابن عمر رضی الله عنہما سے سنا ہے،
۳- اس باب میں ابو مرثد کناز بن حصین، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،
۴- لیث بن سعد نے یہ حدیث بطریق: «عبد الله بن عمر العمري عن نافع عن ابن عمر عن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔ داود کی حدیث جسے انہوں نے بطریق: «عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے روایت کی ہے۔ لیث بن سعد کی حدیث سے زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہے، عبداللہ بن عمر عمری کو بعض اہل حدیث نے ان کے حفظ کے تعلق سے ضعیف گردانا ہے، انہیں میں سے یحییٰ بن سعیدالقطان بھی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 347]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ زبير على زئي:(346 ، 347) ضعيف/ جه 746
زيد بن جبيرة متروك (تق : 2122) وحدث عن داؤد بن الحصين بحديث منكر جدًا وللحديث شاھد ضعيف عند ابن ماجه (747)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں