🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

57. باب مَا جَاءَ فِي سَرْدِ الصَّوْمِ
باب: پے در پے روزہ رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 768
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ صَامَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ " قَالَتْ: " وَمَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ شَهْرًا كَامِلًا إِلَّا رَمَضَانَ ". وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ نے خوب روزے رکھے، پھر آپ روزے رکھنا چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ نے بہت دنوں سے روزہ نہیں رکھے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی ماہ کے پورے روزے نہیں رکھے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث صحیح ہے،
۲- اس باب میں انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصیام 34 (1156)، سنن النسائی/الصیام 70 (2351)، (تحفة الأشراف: 16202)، وانظر ما تقدم عند المؤلف برقم: 737 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس کی وجہ یہ تھی تاکہ کوئی اس کے وجوب کا گمان نہ کرے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (1710)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 769
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَ يَصُومُ مِنَ الشَّهْرِ حَتَّى نَرَى أَنَّهُ لَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَرَى أَنَّهُ لَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا، وَكُنْتَ لَا تَشَاءُ أَنْ تَرَاهُ مِنَ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْتَهُ مُصَلِّيًا وَلَا نَائِمًا إِلَّا رَأَيْتَهُ نَائِمًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: آپ کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے: اب آپ کا ارادہ روزے بند کرنے کا نہیں ہے، اور کبھی بغیر روزے کے رہتے یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوتا کہ آپ کوئی روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ اور آپ کو رات کے جس حصہ میں بھی تم نماز پڑھنا دیکھنا چاہتے نماز پڑھتے دیکھ لیتے اور جس حصہ میں سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو سوتے ہوئے دیکھ لیتے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 769]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 584) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 770
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ الصَّوْمِ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ، كَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا وَلَا يَفِرُّ إِذَا لَاقَى ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الشَّاعِرُ الْمَكِّيُّ الْأَعْمَى وَاسْمُهُ السَّائِبُ بْنُ فَرُّوخَ، قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَفْضَلُ الصِّيَامِ أَنْ تَصُومَ يَوْمًا وَتُفْطِرَ يَوْمًا، وَيُقَالُ: هَذَا هُوَ أَشَدُّ الصِّيَامِ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے افضل روزہ میرے بھائی داود علیہ السلام کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے، اور جب (دشمن سے) مڈبھیڑ ہوتی تو میدان چھوڑ کر بھاگتے نہیں تھے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ سب سے افضل روزہ یہ ہے کہ تم ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن بغیر روزہ کے رہو، کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے سخت روزہ ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 770]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف بہذا السیاق (تحفة الأشراف: 8635) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم 57 (1977)، و59 (1979)، والانبیاء 38 (3420)، وفضائل القرآن 34 (5052)، والنکاح 89 (5199)، والأدب 84 (6134)، سنن ابی داود/ الصیام 53 (2427)، صحیح مسلم/الصیام 35 (1159)، سنن النسائی/الصیام 71 (2380)، و76 (2390-2395)، و77 (2396-2398)، و78 (2399-2401)، سنن ابن ماجہ/الصیام 28 (1706)، و31 (1712)، مسند احمد 2/160، 164، 188، 189، 190، 194، 195، 198، 199، 200، 206، 216، 224، 265)، سنن الدارمی/الصوم 42 (1793)، من غیر ہذا الطریق وبتصرف في السیاق۔»
قال الشيخ الألباني: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں