صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ:
باب: روزہ دار کا اپنی بیوی سے مباشرت یعنی بوسہ، مساس وغیرہ درست ہے۔
حدیث نمبر: Q1927
وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: يَحْرُمُ عَلَيْهِ فَرْجُهَا.
اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ روزہ دار پر بیوی کی شرمگاہ حرام ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: Q1927]
حدیث نمبر: 1927
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ"، وَقَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: مَآرِبُ حَاجَةٌ، قَالَ طَاوُسٌ: غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ الْأَحْمَقُ، لَا حَاجَةَ لَهُ فِي النِّسَاءِ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نے ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے ہوتے لیکن (اپنی ازواج کے ساتھ) «يقبل» (بوسہ لینا) و مباشرت (اپنے جسم سے لگا لینا) بھی کر لیتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے، بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ (سورۃ طہٰ میں جو «مآرب» کا لفظ ہے وہ) حاجت و ضرورت کے معنی میں ہے، طاؤس نے کہا کہ لفظ «أولي الإربة» (جو سورۃ النور میں ہے) اس احمق کو کہیں گے جسے عورتوں کی کوئی ضرورت نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1927]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں کبھی بوسہ دیتے اور کبھی اپنا بدن میرے بدن سے لگا دیتے، مگر وہ اپنی خواہش پر تم سے زیادہ قابو یافتہ تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «مَآرِبُ» [سورة طه: 18] سے مراد ”حاجت“ ہے، نیز طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ﴿غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ﴾ [سورة النور: 31] سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں عورتوں کی خواہش نہیں ہوتی۔ جابر بن زید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر وہ عورت کو دیکھے اور اسے انزال ہو جائے تو وہ روزہ پورا کرے گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1927]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة