🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. بَابُ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ وَالإِفْطَارِ:
باب: سفر میں روزہ رکھنا اور افطار کرنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1941
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الشَّمْسُ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، قَالَ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، الشَّمْسُ، قَالَ: انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي، فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فَشَرِبَ، ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ هَاهُنَا، ثُمَّ قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ"، تَابَعَهُ جَرِيرٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق شیبانی نے، انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے (روزہ کی حالت میں) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب (بلال رضی اللہ عنہ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے، انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! ابھی تو سورج باقی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول لے، اب کی مرتبہ بھی انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ! ابھی سورج باقی ہے لیکن آپ کا حکم اب بھی یہی تھا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول لے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف اشارہ کر کے فرمایا جب تم دیکھو کہ رات یہاں سے شروع ہو چکی ہے تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہئے۔ اس کی متابعت جریر اور ابوبکر بن عیاش نے شیبانی کے واسطہ سے کی ہے اور ان سے ابواوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1941]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ (شام کے وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو آفتاب کی روشنی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو گھول۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تک سورج کی روشنی باقی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتر کر میرے لیے ستو تیار کر۔ چنانچہ وہ اترا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ستو تیار کیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نوش کیا۔ پھر اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: جب ادھر سے رات کا اندھیرا شروع ہو جائے تو روزہ دار کو روزہ افطار کرنا چاہیے۔ جریر اور ابو بکر عیاش نے ابو اسحاق سے روایت کرنے میں سفیان کی متابعت کی ہے، وہ حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1941]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1942
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ:" إِنِّي أَسْرُدُ الصَّوْمَ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ عروہ نے بیان کیا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسول اللہ! میں سفر میں لگاتار روزہ رکھتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1942]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں پے درپے روزے رکھتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1942]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1943
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَأَصُومُ فِي السَّفَرِ، وَكَانَ كَثِيرَ الصِّيَامِ؟ فَقَالَ: إِنْ شِئْتَ فَصُمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ".
(دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) اور ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی میں سفر میں روزہ رکھوں؟ وہ روزے بکثرت رکھا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر جی چاہے تو روزہ رکھ اور جی چاہے افطار کر۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1943]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے کہ حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں سفر میں روزہ رکھ لوں؟ اور وہ بہت روزے رکھا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تمہاری مرضی ہے) چاہو تو رکھ لو، چاہو تو چھوڑ دو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1943]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں