🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. باب مَا جَاءَ أَنَّ الشَّاةَ الْوَاحِدَةَ تُجْزِئُ عَنْ أَهْلِ الْبَيْتِ
باب: ایک بکری کی قربانی گھر کے سارے افراد کی طرف سے کافی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1505
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ , حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَال: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ , يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ: كَيْفَ كَانَتِ الضَّحَايَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: " كَانَالرَّجُلُ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ , وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ , فَيَأْكُلُونَ , وَيُطْعِمُونَ , حَتَّى تَبَاهَى النَّاسُ , فَصَارَتْ كَمَا تَرَى " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ , وَعُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ: مَدَنِيٌّ , وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ , وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق: " وَاحْتَجَّا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ضَحَّى بِكَبْشٍ , فَقَالَ: هَذَا عَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي " , وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا تُجْزِي الشَّاةُ إِلَّا عَنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ , وَهُوَ قَوْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ: وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ.
عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوایوب انصاری رضی الله عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانیاں کیسے ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: ایک آدمی اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا، وہ لوگ خود کھاتے تھے اور دوسروں کو کھلاتے تھے یہاں تک کہ لوگ (کثرت قربانی پر) فخر کرنے لگے، اور اب یہ صورت حال ہو گئی جو دیکھ رہے ہو ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- راوی عمارہ بن عبداللہ مدنی ہیں، ان سے مالک بن انس نے بھی روایت کی ہے،
۳- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ آپ نے ایک مینڈھے کی قربانی کی اور فرمایا: یہ میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ہے، جنہوں نے قربانی نہیں کی ہے،
۴- بعض اہل علم کہتے ہیں: ایک بکری ایک ہی آدمی کی طرف سے کفایت کرے گی، عبداللہ بن مبارک اور دوسرے اہل علم کا یہی قول ہے (لیکن راجح پہلا قول ہے)۔ [سنن ترمذي/كتاب الأضاحى عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأضاحی 10 (3147)، (تحفة الأشراف: 3481) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی لوگ قربانی کرنے میں فخر و مباہات سے کام لینے لگے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3147)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں