الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
The Book on Food
13. باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ أَكْلِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ
باب: لہسن اور پیاز کھانے کی کراہت کا بیان۔
Chapter: ….
حدیث نمبر: 1806
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا إسحاق بن منصور، اخبرنا يحيى بن سعيد القطان، عن ابن جريج، حدثنا عطاء، عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من اكل من هذه قال اول مرة الثوم ثم قال الثوم والبصل والكراث فلا يقربنا في مسجدنا "، قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح وفي الباب عن عمر، وابي ايوب، وابي هريرة، وابي سعيد، وجابر بن سمرة، وقرة بن إياس المزني، وابن عمر.(مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ الثُّومِ ثُمَّ قَالَ الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ فَلَا يَقْرَبْنَا فِي مَسْجِدِنَا "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي أَيُّوبَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، وَقُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ الْمُزَنِيِّ، وَابْنِ عُمَرَ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ان میں سے لہسن کھائے، یا لہسن، پیاز اور گندنا ۱؎ - کھائے وہ ہماری مسجدوں میں ہمارے قریب نہ آئے ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عمر، ابوایوب، ابوہریرہ، ابو سعید خدری، جابر بن سمرہ، قرہ بن ایاس مزنی اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 16 (854)، والأطعمة 49 (5452)، والاعتصام 24 (7359)، صحیح مسلم/المساجد 17 (564)، سنن ابی داود/ الأطعمة 41 (3822)، سنن النسائی/المساجد 16 (708)، (تحفة الأشراف: 2447)، و مسند احمد (3/374، 387) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: بدبودار سبزیاں یا ایسی چیزیں جن میں بدبو ہوتی ہے۔
۲؎: بعض احادیث میں «فلا یقربن المساجد» ہے، اس حدیث کا مفہوم یہی ہے کہ لہسن، پیاز اور اسی طرح کی بدبودار چیزیں کھا کر مسجدوں میں نہ آیا جائے، کیونکہ فرشتے اس سے اذیت محسوس کرتے ہیں۔ دیگر بدبودار کھانے اور بیڑی سگریٹ وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (547)
حدیث نمبر: 1807
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو داود، انبانا شعبة، عن سماك بن حرب، سمع جابر بن سمرة يقول: نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم على ايوب وكان إذا اكل طعاما بعث إليه بفضله فبعث إليه يوما بطعام ولم ياكل منه النبي صلى الله عليه وسلم فلما اتى ابو ايوب النبي صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " فيه ثوم "، فقال: يا رسول الله احرام هو؟، قال: " لا ولكني اكرهه من اجل ريحه "، قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح.(مرفوع) حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَيُّوبَ وَكَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا بَعَثَ إِلَيْهِ بِفَضْلِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ يَوْمًا بِطَعَامٍ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَتَى أَبُو أَيُّوبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِيهِ ثُومٌ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَرَامٌ هُوَ؟، قَالَ: " لَا وَلَكِنِّي أَكْرَهُهُ مِنْ أَجْلِ رِيحِهِ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
جابر بن سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ہجرت کے بعد) ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کے گھر ٹھہرے، آپ جب بھی کھانا کھاتے تو اس کا کچھ حصہ ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کے پاس بھیجتے، آپ نے ایک دن (پورا) کھانا (واپس) بھیجا، اس میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کھایا، جب ابوایوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: اس میں لہسن ہے؟، انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وہ حرام ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن اس کی بو کی وجہ سے میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 1807) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (2511)

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.