الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
كتاب الأطعمة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: کھانے کے احکام و مسائل
The Book on Food
30. باب مَا جَاءَ فِي إِكْثَارِ مَاءِ الْمَرَقَةِ
باب: سالن میں پانی زیادہ کرنے کا بیان۔
Chapter: ….
حدیث نمبر: 1832
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا محمد بن عمر بن علي المقدمي، حدثنا مسلم بن إبراهيم، حدثنا محمد بن فضاء، حدثني ابي، عن علقمة بن عبد الله المزني، عن ابيه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: " إذا اشترى احدكم لحما فليكثر مرقته فإن لم يجد لحما اصاب مرقة وهو احد اللحمين "، وفي الباب: عن ابي ذر، قال ابو عيسى: هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من هذا الوجه من حديث محمد بن فضاء، ومحمد بن فضاء هو المعبر وقد تكلم فيه سليمان بن حرب، وعلقمة بن عبد الله هو اخو بكر بن عبد الله المزني.(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا اشْتَرَى أَحَدُكُمْ لَحْمًا فَلْيُكْثِرْ مَرَقَتَهُ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ لَحْمًا أَصَابَ مَرَقَةً وَهُوَ أَحَدُ اللَّحْمَيْنِ "، وَفِي الْبَاب: عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فَضَاءٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ هُوَ الْمُعَبِّرُ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ أَخُو بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ.
عبداللہ مزنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی گوشت خریدے تو اس میں (پکاتے وقت) شوربا (سالن) زیادہ کر لے، اس لیے کہ اگر وہ گوشت نہ پا سکے تو اسے شوربا مل جائے، وہ بھی دو گوشت میں سے ایک گوشت ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں ابوذر سے بھی روایت ہے،
۲- ہم اسے صرف اسی سند سے محمد بن فضاء کی روایت سے جانتے ہیں، محمد بن فضاء «معبر» (یعنی خواب کی تعبیر بیان کرنے والے) ہیں، ان کے بارے میں سلیمان بن حرب نے کلام کیا ہے،
۳- یہ حدیث غریب ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 8974) (ضعیف) (سند میں محمد بن فضاء ضعیف، اور ان کے والد فضاء بن خالد بصری مجہول راوی ہیں)»

قال الشيخ الألباني: ضعيف، الضعيفة (2341) // ضعيف الجامع الصغير (371) //
حدیث نمبر: 1833
Save to word اعراب
(مرفوع) حدثنا الحسين بن علي بن الاسود البغدادي، حدثنا عمرو بن محمد العنقزي، حدثنا إسرائيل، عن صالح بن رستم ابي عامر الخزاز، عن ابي عمران الجوني، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يحقرن احدكم شيئا من المعروف، وإن لم يجد فليلق اخاه بوجه طليق، وإن اشتريت لحما او طبخت قدرا فاكثر مرقته واغرف لجارك منه "، قال ابو عيسى: هذا حديث حسن صحيح وقد رواه شعبة، عن ابي عمران الجوني.(مرفوع) حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْأَسْوَدِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْقَزِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ أَبِي عَامِرٍ الْخَزَّازِ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَلْيَلْقَ أَخَاهُ بِوَجْهٍ طَلِيقٍ، وَإِنِ اشْتَرَيْتَ لَحْمًا أَوْ طَبَخْتَ قِدْرًا فَأَكْثِرْ مَرَقَتَهُ وَاغْرِفْ لِجَارِكَ مِنْهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ.
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں میں سے کوئی شخص کسی بھی نیک کام کو حقیر نہ سمجھے، اگر کوئی نیک کام نہ مل سکے تو اپنے بھائی سے مسکرا کر ملے ۱؎، اور اگر تم گوشت خریدو یا ہانڈی پکاؤ تو شوربا (سالن) بڑھا لو اور اس میں سے چلو بھر اپنے پڑوسی کو دے دو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- شعبہ نے بھی اسے ابوعمران جونی کے واسطہ سے روایت کیا ہے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/البر و الصلة 42 (2625/142)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 58 (3362)، (تحفة الأشراف: 11951)، و مسند احمد (5/149، 156، 161، 171) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا اسے دلی سکون پہنچانا ہے، یہ بھی ایک نیک عمل ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح، الصحيحة (1368)، التعليق الرغيب (3 / 264)

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.