🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ هَلْ يَدْرَأُ الْمُعْتَكِفُ عَنْ نَفْسِهِ:
باب: اعتکاف والا اپنے اوپر سے کسی بدگمانی کو دور کر سکتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2039
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ أَخْبَرَتْهُ. ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يُخْبِرُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ:" أَنَّ صَفِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ، فَلَمَّا رَجَعَتْ مَشَى مَعَهَا، فَأَبْصَرَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا أَبْصَرَهُ، دَعَاهُ، فَقَالَ: تَعَالَ، هِيَ صَفِيَّةُ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ: هَذِهِ صَفِيَّةُ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ، قُلْتُ لِسُفْيَانَ: أَتَتْهُ لَيْلًا، قَالَ: وَهَلْ هُوَ إِلَّا لَيْلٌ؟".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے بھائی نے خبر دی، انہیں سلیمان نے، انہیں محمد بن ابی عتیق نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی (دوسری سند) اور ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا۔ وہ علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے خبر دیتے تھے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اعتکاف میں تھے۔ پھر جب وہ واپس ہونے لگیں تو آپ بھی ان کے ساتھ (تھوڑی دور تک انہیں چھوڑنے) آئے۔ (آتے ہوئے) ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے آپ کو دیکھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ان پر پڑی، تو فوراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا، کہ سنو! یہ (میری بیوی) صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ (سفیان نے ہی صفیہ کے بجائے بعض اوقات «هذه صفية» کے الفاظ کہے۔ (اس کی وضاحت اس لیے ضروری سمجھی) کہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے۔ میں (علی بن عبداللہ) نے سفیان سے پوچھا کہ غالباً وہ رات کو آئی ہوں گی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ رات کے سوا اور وقت ہی کون سا ہو سکتا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِكَافِ/حدیث: 2039]
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں جبکہ آپ اعتکاف کی حالت میں تھے۔ پھر جب وہ واپس جانے لگیں تو آپ بھی ان کے ساتھ چلے۔ اس دوران میں آپ کو ایک انصاری جوان نے دیکھا۔ جب آپ کی نظر اس پر پڑی تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: ادھر آؤ! یہ (میری بیوی) صفیہ ہے سفیان نے بعض اوقات «هِيَ صَفِيَّةُ» کی بجائے «هَذِهِ صَفِيَّةُ» کے الفاظ کہے، (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے یہ وضاحت ضروری سمجھی) کیونکہ شیطان ابن آدم کے رگ و ریشے میں خون کی طرح سرایت کرتا ہے۔ (علی بن عبداللہ کہتے ہیں) میں نے اپنے شیخ سفیان سے کہا: حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس رات کو آئی تھیں؟ تو انھوں نے جواب دیا: رات ہی تو تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الِاعْتِكَافِ/حدیث: 2039]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں