🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب مَا جَاءَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا فَقَّهَهُ فِي الدِّينِ
باب: جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے​۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2645
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ " , وفي الباب عن عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَمُعَاوِيَةَ , هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ساتھ اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے، تو اسے دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱ - یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اس باب میں عمر، ابوہریرہ، اور معاویہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب العلم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (5667)، وانظر مسند احمد (1/306) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دین کی سمجھ سے مراد کتاب و سنت کا علم، ذخیرہ احادیث میں صحیح، ضعیف اور موضوع روایات کا علم، اسلامی شریعت کے احکام و مسائل کا علم اور حلال و حرام میں تمیز پیدا کرنے کا ملکہ ہے، اس نظر یہ سے اگر دیکھا جائے تو صحابہ کرام، محدثین عظام سے بڑھ کر اس حدیث کا مصداق اور کون ہو سکتا ہے، جنہوں نے بے انتہائی محنت کر کے احادیث کے منتشر ذخیرہ کو جمع کیا اور پھر انہیں مختلف کتب و ابواب کے تحت فقہی انداز میں مرتب کیا، افسوس صد افسوس ایسے لوگوں پر جو محدثین کی ان خدمات جلیلہ کو نظر انداز کر کے ایسے لوگوں کو فقیہ گردانتے ہیں جن کی فقاہت میں کتاب و سنت کی بجائے ان کی اپنی آراء کا زیادہ دخل ہے جب کہ محدثین کرام نے اپنی آراء سے یکسر اجتناب کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (220)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں