صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ النَّجَّارِ:
باب: بڑھئی کا بیان۔
حدیث نمبر: 2094
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: أَتَى رِجَالٌ إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فُلَانَةَ امْرَأَةٍ، قَدْ سَمَّاهَا: سَهْلٌ، أَنْ مُرِي غُلَامَكِ النَّجَّارَ يَعْمَلُ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ، إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ، فَأَمَرَتْهُ يَعْمَلُهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، ثُمَّ جَاءَ بِهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا، فَأَمَرَ بِهَا، فَوُضِعَتْ فَجَلَسَ عَلَيْهِ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ان سے ابوحازم نے بیان کیا کہ کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے یہاں منبرنبوی کے متعلق پوچھنے آئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کے یہاں جن کا نام بھی سہل رضی اللہ عنہ نے لیا تھا، اپنا آدمی بھیجا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام سے کہیں کہ میرے لیے کچھ لکڑیوں کو جوڑ کر منبر تیار کر دے، تاکہ لوگوں کو وعظ کرنے کے لیے میں اس پر بیٹھ جایا کروں۔ چنانچہ اس عورت نے اپنے غلام سے غابہ کے جھاؤ کی لکڑی کا منبر بنانے کے لیے کہا۔ پھر (جب منبر تیار ہو گیا تو) انہوں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ وہ منبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے (مسجد میں) رکھا گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2094]
حضرت ابو حازم سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ کچھ آدمی حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آکر ان سے منبر کے متعلق پوچھنے لگے، تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کو پیغام بھیجا (حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے اس کا نام بھی لیا تھا) کہ ”تم اپنے بڑھئی غلام سے کہو کہ وہ میرے لیے لکڑیوں کا ایک منبر تیار کر دے تاکہ لوگوں سے خطاب کرتے وقت میں اس پر بیٹھوں۔“ چنانچہ اس نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ وہ غابہ جنگل سے جھاؤ کے درخت سے منبر تیار کر دے، چنانچہ وہ منبر تیار کر کے لے آیا تو اس عورت نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (مسجد میں) رکھنے کا حکم دیا، وہ (ایک مناسب جگہ پر) رکھ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2094]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2095
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَجْعَلُ لَكَ شَيْئًا تَقْعُدُ عَلَيْهِ، فَإِنَّ لِي غُلَامًا نَجَّارًا؟ قَالَ: إِنْ شِئْتِ، قَالَ: فَعَمِلَتْ لَهُ الْمِنْبَرَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ الَّذِي صُنِعَ، فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ الَّتِي كَانَ يَخْطُبُ عِنْدَهَا، حَتَّى كَادَتْ تَنْشَقَّ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَخَذَهَا فَضَمَّهَا إِلَيْهِ، فَجَعَلَتْ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يُسَكَّتُ حَتَّى اسْتَقَرَّتْ، قَالَ: بَكَتْ عَلَى مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ ایک انصاری عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں آپ کے لیے کوئی ایسی چیز کیوں نہ بنوا دوں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کے وقت بیٹھا کریں۔ کیونکہ میرے پاس ایک غلام بڑھئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تمہاری مرضی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر جب منبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس نے تیار کیا۔ تو جمعہ کے دن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر پر بیٹھے تو اس کھجور کی لکڑی سے رونے کی آواز آنے لگی۔ جس پر ٹیک دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے خطبہ دیا کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ پھٹ جائے گی۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سے اترے اور اسے پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔ اس وقت بھی وہ لکڑی اس چھوٹے بچے کی طرح سسکیاں بھر رہی تھی جسے چپ کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ چپ ہو گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ اس کے رونے کی وجہ یہ تھی کہ یہ لکڑی خطبہ سنا کرتی تھی اس لیے روئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2095]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں آپ کے لیے کوئی ایسی چیز نہ بنا لاؤں جس پر آپ بیٹھ جایا کریں؟ اس لیے کہ میرا غلام بڑھئی کے پیشے سے وابستہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاہو تو بنوا سکتی ہو۔“ چنانچہ اس عورت نے آپ کے لیے منبر بنوا لیا۔ جب جمعہ کا دن آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر پر تشریف فرما ہوئے جو آپ کے لیے تیار کیا گیا تھا اور کھجور کا وہ تنا جس کے پاس آپ کھڑے ہو کر خطبہ دیا کرتے تھے، آہیں بھر کر چیخنے لگا، قریب تھا کہ وہ پھٹ جائے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے اور اسے اپنے گلے سے لگا لیا، وہ تنا ایسے بچے کی طرح سسکیاں لے کر رونے لگا جسے چپ کرایا جاتا ہے تاآنکہ وہ خاموش ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ (کھجور کا تنا) اس لیے رویا کہ وہ اللہ کا ذکر سنا کرتا تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2095]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة