🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. بَابُ شِرَاءِ الإِبِلِ الْهِيمِ أَوِ الأَجْرَبِ:
باب: ( «هيم» ) بیمار یا خارشی اونٹ خریدنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2099
الْهَائِمُ الْمُخَالِفُ لِلْقَصْدِ فِي كُلِّ شَيْءٍ.
‏‏‏‏ «هيم»، «ہائم» کی جمعہ ہے۔ «هيم» اعتدال (میانہ روی) سے گزرنے والا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: Q2099]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2099
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ عَمْرٌو:" كَانَ هَاهُنَا رَجُلٌ اسْمُهُ: نَوَّاسٌ، وَكَانَتْ عِنْدَهُ إِبِلٌ هِيمٌ، فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَاشْتَرَى تِلْكَ الْإِبِلَ مِنْ شَرِيكٍ لَهُ، فَجَاءَ إِلَيْهِ شَرِيكُهُ، فَقَالَ: بِعْنَا تِلْكَ الْإِبِلَ، فَقَالَ: مِمَّنْ بِعْتَهَا؟ قَالَ: مِنْ شَيْخٍ، كَذَا، وَكَذَا، فَقَالَ: وَيْحَكَ ذَاكَ، وَاللَّهِ ابْنُ عُمَرَ، فَجَاءَهُ، فَقَالَ: إِنَّ شَرِيكِي بَاعَكَ إِبِلًا هِيمًا وَلَمْ يَعْرِفْكَ، قَالَ: فَاسْتَقْهَا، قَالَ: فَلَمَّا ذَهَبَ يَسْتَاقُهَا، فَقَالَ: دَعْهَا رَضِينَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا عَدْوَى"، سَمِعَ سُفْيَانُ عَمْرًا.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار نے کہا یہاں (مکہ میں) ایک شخص نواس نام کا تھا۔ اس کے پاس ایک بیمار اونٹ تھا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گئے اور اس کے شریک سے وہی اونٹ خرید لائے۔ وہ شخص آیا تو اس کے ساجھی نے کہا کہ ہم نے تو وہ اونٹ بیچ دیا۔ اس نے پوچھا کہ کسے بیچا؟ شریک نے کہا کہ ایک شیخ کے ہاتھوں جو اس طرح کے تھے۔ اس نے کہا افسوس! وہ تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے۔ چنانچہ وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے ساتھی نے آپ کو مریض اونٹ بیچ دیا ہے اور آپ سے اس نے اس کے مرض کی وضاحت بھی نہیں کی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ پھر اسے واپس لے جاؤ۔ بیان کیا کہ جب وہ اس کو لے جانے لگا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اچھا رہنے دو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ پر راضی ہیں (آپ نے فرمایا تھا کہ) «لا عدوى‏.‏» (یعنی امراض چھوت والے نہیں ہوتے) علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ سفیان نے اس روایت کو عمرو سے سنا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2099]
حضرت عمرو بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ یہاں نواس نامی ایک شخص تھا، اس کے پاس ایسے اونٹ تھے جن کی پیاس نہ ختم ہوتی تھی، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشریف لے گئے اور اس کے شریک سے وہ اونٹ خرید لائے، پھر اس کے پاس وہ شریک آیا اور کہنے لگا کہ ہم نے وہ اونٹ فروخت کر دیے ہیں۔ اس نے کہا: کس کے ہاتھ فروخت کیے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ فلاں بزرگ کو فروخت کیے ہیں جن کی شکل و صورت کچھ ایسی ایسی تھی۔ اس نے کہا: تیرے لیے خرابی ہو، اللہ کی قسم! وہ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے۔ پھر وہ شخص حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور آپ سے عرض کرنے لگا: میرے شریک نے آپ کے ہاتھ پیاس والے اونٹ فروخت کر دیے ہیں اور اس نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اپنے اونٹ ہانک کر لے جاؤ۔ جب وہ ہانکنے لگا تو فرمایا: انہیں چھوڑ دو، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے خوش ہیں کہ ”ایک کا مرض دوسرے کو نہیں لگتا۔“ سفیان نے حضرت عمرو بن دینار سے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2099]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں