صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. بَابُ مَنْ رَأَى إِذَا اشْتَرَى طَعَامًا جِزَافًا أَنْ لاَ يَبِيعَهُ حَتَّى يُئْوِيَهُ إِلَى رَحْلِهِ، وَالأَدَبِ فِي ذَلِكَ:
باب: جو شخص غلہ کا ڈھیر بن ناپے تولے خریدے وہ جب تک اس کو اپنے ٹھکانے نہ لائے، کسی کے ہاتھ نہ بیچے اور اس کے خلاف کرنے والے کی سزا کا بیان۔
حدیث نمبر: 2137
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ النَّاسَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَاعُونَ جِزَافًا يَعْنِي الطَّعَامَ، يُضْرَبُونَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِمْ، حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہ مجھے سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں دیکھا کہ لوگوں کو اس پر تنبیہ کی جاتی جب وہ غلہ کا ڈھیر خرید کر کے اپنے ٹھکانے پر لانے سے پہلے ہی اس کو بیچ ڈالتے۔ یعنی غلہ تو اس بات پر انہیں سزا دی جاتی تھی کہ وہ اس کو اپنے ٹھکانے پر لانے سے پہلے اس کو بیچ ڈالیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2137]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة