صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
109. بَابُ بَيْعِ الرَّقِيقِ:
باب: لونڈی غلام بیچنا۔
حدیث نمبر: 2229
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ مُحَيْرِيزٍ: أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا فَنُحِبُّ الْأَثْمَانَ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ؟ فَقَالَ: أَوَإِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ، لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ، فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلَّا هِيَ خَارِجَةٌ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہیر نے بیان کیا کہ مجھے ابن محیریز نے خبر دی اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی، کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ (ایک انصاری صحابی نے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! لڑائی میں ہم لونڈیوں کے پاس جماع کے لیے جاتے ہیں۔ ہمارا ارادہ انہیں بیچنے کا بھی ہوتا ہے۔ تو آپ عزل کر لینے کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا تم لوگ ایسا کرتے ہو؟ اگر تم ایسا نہ کرو پھر بھی کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ جس روح کی بھی پیدائش اللہ تعالیٰ نے قسمت میں لکھ دی ہے وہ پیدا ہو کر ہی رہے گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2229]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمیں جو لونڈیاں ملتی ہیں (ہم ان سے جماع کرتے ہیں لیکن) ان کے عوض قیمت وصول کرنا بھی پسند کرتے ہیں، ایسے حالات میں عزل کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ایسا کرتے ہو؟ تم ایسا نہ بھی کرو تو کوئی حرج نہیں، اس لیے کہ جس روح کا آنا اللہ نے لکھ دیا ہے وہ تو آ کر رہے گی (تم عزل کرو یا نہ کرو)۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2229]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة