صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ}:
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ نساء میں) یہ ارشاد کہ ”جن لوگوں سے تم نے قسم کھا کر عہد کیا ہے، ان کا حصہ ان کو ادا کرو“۔
حدیث نمبر: 2292
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِدْرِيسَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33، قَالَ وَرَثَةً: وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33، قَالَ:" كَانَ الْمُهَاجِرُونَ لَمَّا قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَرِثُ الْمُهَاجِرُ الْأَنْصَارِيَّ، دُونَ ذَوِي رَحِمِهِ لِلْأُخُوَّةِ الَّتِي آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمْ، فَلَمَّا نَزَلَتْ: وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ سورة النساء آية 33، نَسَخَتْ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33، إِلَّا النَّصْرَ، وَالرِّفَادَةَ، وَالنَّصِيحَةَ، وَقَدْ ذَهَبَ الْمِيرَاثُ وَيُوصِي لَهُ".
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ادریس نے، ان سے طلحہ بن مصرف نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کہ (قرآن مجید کی آیت «ولكل جعلنا موالي») کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ( «موالي» کے معنی) ورثہ کے ہیں۔ اور «والذين عقدت أيمانكم» (کا قصہ یہ ہے کہ) مہاجرین جب مدینہ آئے تو مہاجر انصار کا ترکہ پاتے تھے اور انصاری کے ناتہ داروں کو کچھ نہ ملتا۔ اس بھائی پنے کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کی ہوئی تھی۔ پھر جب آیت «ولكل جعلنا موالي» ہوئی تو پہلی آیت «والذين عقدت أيمانكم» منسوخ ہو گئی۔ سوا امداد، تعاون اور خیر خواہی کے۔ البتہ میراث کا حکم (جو انصار و مہاجرین کے درمیان مواخاۃ کی وجہ سے تھا) وہ منسوخ ہو گیا اور وصیت جتنی چاہے کی جا سکتی ہے۔ (جیسی اور شخصوں کے لیے بھی ہو سکتی ہے تہائی ترکہ میں سے وصیت کی جا سکتی ہے جس کا نفاذ کیا جائے گا۔) [صحيح البخاري/كِتَاب الْكَفَالَةِ/حدیث: 2292]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ﴾ [سورة النساء: 33] ”اور ہم نے ہر ایک کے لیے موالی ٹھہرائے ہیں“ کے متعلق روایت ہے کہ «الْمَوَالِي» سے مراد وارث ہیں، اور ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 33] ”اور جن سے تم نے قسم اٹھا کر پیمان باندھا“ کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ مہاجرین جب مدینہ طیبہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور انصار میں بھائی چارہ کرا دیا، چنانچہ مہاجر، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کرائے ہوئے اس مواخات کے سبب انصاری کا ترکہ پاتا اور اس کے رشتہ داروں کو کچھ نہ ملتا تھا، اور جب یہ آیت ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ﴾ [سورة النساء: 33] نازل ہوئی تو اس سے مذکورہ اجازت ﴿فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [سورة النساء: 33] ”اور جن لوگوں سے تم نے قسم اٹھا کر عہد و پیمان کیا انہیں ان کا حصہ دو“ منسوخ ہوگئی، پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اب ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 33] کی رو سے صرف مدد، معاونت اور خیر خواہی کی گنجائش باقی رہی اور وراثت میں حصہ پانے کا حق جاتا رہا، البتہ ان کے لیے وصیت کی جا سکتی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْكَفَالَةِ/حدیث: 2292]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2293
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَآخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں آئے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھائی چارہ سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ سے کرایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْكَفَالَةِ/حدیث: 2293]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ میں بھائی چارہ کرا دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْكَفَالَةِ/حدیث: 2293]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2294
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبَلَغَكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ"، فَقَالَ: قَدْ حَالَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ، وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِي.
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا، اسلام میں جاہلیت والے (غلط قسم کے) عہد و پیمان نہیں ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو خود انصار اور قریش کے درمیان میرے گھر میں عہد و پیمان کرایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْكَفَالَةِ/حدیث: 2294]
عاصم رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام میں عقدِ حلف کی کوئی حیثیت نہیں ہے“؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور انصار میں عہد و پیمان میرے اپنے گھر میں کرایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْكَفَالَةِ/حدیث: 2294]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة