🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ إِذَا وَكَّلَ رَجُلٌ أَنْ يُعْطِيَ شَيْئًا وَلَمْ يُبَيِّنْ كَمْ يُعْطِي، فَأَعْطَى عَلَى مَا يَتَعَارَفُهُ النَّاسُ:
باب: ایک شخص نے کسی دوسرے شخص کو کچھ دینے کے لیے وکیل کیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کتنا دے، اور وکیل نے لوگوں کے جانے ہوئے دستور کے مطابق دے دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2309
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَغَيْرِهِ، يزيد بعضهم على بعض، ولم يبلغه كلهم رجل واحد منهم، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ ثَفَالٍ، إِنَّمَا هُوَ فِي آخِرِ الْقَوْمِ، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: مَا لَكَ؟ قُلْتُ: إِنِّي عَلَى جَمَلٍ ثَفَالٍ، قَالَ: أَمَعَكَ قَضِيبٌ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَعْطِنِيهِ، فَأَعْطَيْتُهُ فَضَرَبَهُ فَزَجَرَهُ فَكَانَ مِنْ ذَلِكَ الْمَكَانِ مِنْ أَوَّلِ الْقَوْمِ، قَالَ: بِعْنِيهِ، فَقُلْتُ: بَلْ، هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: بَلْ بِعْنِيهِ قَدْ أَخَذْتُهُ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ، وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ الْمَدِينَةِ أَخَذْتُ أَرْتَحِلُ، قَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً قَدْ خَلَا مِنْهَا، قَالَ: فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ، قُلْتُ: إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ وَتَرَكَ بَنَاتٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْكِحَ امْرَأَةً قَدْ جَرَّبَتْ خَلَا مِنْهَا، قَالَ: فَذَلِكَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، قَالَ: يَا بِلَالُ اقْضِهِ، وَزِدْهُ، فَأَعْطَاهُ أَرْبَعَةَ دَنَانِيرَ وَزَادَهُ قِيرَاطًا، قَالَ جَابِرٌ: لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَكُنِ الْقِيرَاطُ يُفَارِقُ جِرَابَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح اور کئی لوگوں نے ایک دوسرے کی روایت میں زیادتی کے ساتھ۔ سب راویوں نے اس حدیث کو جابر رضی اللہ عنہ تک نہیں پہنچایا بلکہ ایک راوی نے ان میں سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ وہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا اور میں ایک سست اونٹ پر سوار تھا اور وہ سب سے آخر میں رہتا تھا۔ اتفاق سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر میری طرف سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون صاحب ہیں؟ میں نے عرض کیا جابر بن عبداللہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہوئی (کہ اتنے پیچھے رہ گئے ہو) میں بولا کہ ایک نہایت سست رفتار اونٹ پر سوار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارے پاس کوئی چھڑی بھی ہے؟ میں نے کہا کہ جی ہاں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ مجھے دیدے۔ میں نے آپ کی خدمت میں وہ پیش کر دی۔ آپ نے اس چھڑی سے اونٹ کو جو مارا اور ڈانٹا تو اس کے بعد وہ سب سے آگے رہنے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے فروخت کر دے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مجھے فروخت کر دے۔ یہ بھی فرمایا کہ چار دینار میں اسے میں خریدتا ہوں ویسے تم مدینہ تک اسی پر سوار ہو کر چل سکتے ہو۔ پھر جب مدینہ کے قریب ہم پہنچے تو میں (دوسری طرف) جانے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کہاں جا رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے ایک بیوہ عورت سے شادی کر لی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی باکرہ سے کیوں نہ کی کہ تم بھی اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ بھی تمہارے ساتھ کھیلتی۔ میں نے عرض کیا کہ والد شہادت پا چکے ہیں۔ اور گھر میں کئی بہنیں ہیں۔ اس لیے میں نے سوچا کہ کسی ایسی خاتون سے شادی کروں جو بیوہ اور تجربہ کار ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو ٹھیک ہے، پھر مدینہ پہنچنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال! ان کی قیمت ادا کر دو اور کچھ بڑھا کر دے دو۔ چنانچہ انہوں نے چار دینار بھی دئیے۔ اور فالتو ایک قیراط بھی دیا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انعام میں اپنے سے کبھی جدا نہیں کرتا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ قیراط جابر رضی اللہ عنہ ہمیشہ اپنی تھیلی میں محفوظ رکھا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَكَالَةِ/حدیث: 2309]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں ایک سفر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا، چونکہ میں ایک سست رفتار اونٹ پر سوار تھا جو سب لوگوں سے بالکل پیچھے تھا، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے تو فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا: جابر بن عبد اللہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ماجرا ہے؟ میں نے عرض کیا: میں ایک سست رفتار اونٹ پر سوار ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہارے پاس کوئی چھڑی ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مجھے دو۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھڑی دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو رسید کی اور ڈانٹا، اب وہ تمام لوگوں سے آگے پہنچ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اونٹ مجھے بیچ دو۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آپ ہی کا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسے میرے ہاتھ بیچ دو، میں نے اسے چار دینار میں خرید لیا، نیز تمہیں اجازت ہو گی کہ مدینہ طیبہ تک تم اس پر سوار ہو کر جاؤ۔ جب ہم مدینہ طیبہ کے قریب آئے تو میں نے الگ راہ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے ایک بیوہ سے شادی کی ہے جس کا شوہر فوت ہو گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نوخیز سے شادی کیوں نہیں کی، وہ تمہاری خوش طبعی کا ذریعہ ہوتی اور تم اسے خوش کرتے؟ میں نے عرض کیا: میرا باپ فوت ہو گیا ہے، پس ماندگان میں چند بیٹیاں ہیں، میں نے چاہا کہ ایسی عورت سے شادی کروں جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو اور وہ خود تجربہ کار ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہی چاہیے تھا۔ جب ہم مدینہ طیبہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے بلال! ان (جابر) کو پیسے دو اور کچھ زیادہ دو۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے چار دینار دیے اور ایک قیراط زیادہ دیا۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زیادہ عنایت کردہ قیراط ہمیشہ میرے پاس رہتا تھا، چنانچہ وہ اس قیراط کو اپنے بٹوے میں ہمیشہ ساتھ رکھتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَكَالَةِ/حدیث: 2309]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں