صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ الْوَكَالَةِ فِي الْبُدْنِ وَتَعَاهُدِهَا:
باب: قربانی کے اونٹوں میں وکالت اور ان کا نگرانی کرنے میں (بیان)۔
حدیث نمبر: 2317
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي،" فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ، حَتَّى نُحِرَ الْهَدْيُ".
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے، انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، میں نے اپنے ہاتھوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے بٹے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کو یہ قلادے اپنے ہاتھ سے پہنائے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جانور میرے والد کے ساتھ (مکہ میں قربانی کے لیے) بھیجے۔ ان کی قربانی کی گئی۔ لیکن (اس بھیجنے کی وجہ سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسی چیز حرام نہیں ہوئی جسے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَكَالَةِ/حدیث: 2317]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار میں نے اپنے ہاتھوں سے تیار کیے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے ہاتھوں سے ان کے گلے میں ڈالا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد گرامی (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) کے ہمراہ انہیں مکہ مکرمہ روانہ کیا لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی چیز حرام نہ ہوئی جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کی تھی تاآنکہ ان قربانیوں کو ذبح کر دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوَكَالَةِ/حدیث: 2317]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة