صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابٌ:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 2330
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو:" قُلْتُ لِطَاوُسٍ: لَوْ تَرَكْتَ الْمُخَابَرَةَ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ، قَالَ: أَيْ عَمْرُو، إِنِّي أُعْطِيهِمْ وَأُغْنِيهِمْ وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ. أَخْبَرَنِي يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ، وَلَكِنْ قَالَ:" أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهِ خَرْجًا مَعْلُومًا".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہ عمرو بن دینار نے کہا کہ میں نے طاؤس سے عرض کیا، کاش! آپ بٹائی کا معاملہ چھوڑ دیتے، کیونکہ ان لوگوں (رافع بن خدیج اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم وغیرہ) کا کہنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اس پر طاؤس نے کہا کہ میں تو لوگوں کو زمین دیتا ہوں اور ان کا فائدہ کرتا ہوں۔ اور صحابہ میں جو بڑے عالم تھے انہوں نے مجھے خبر دی ہے۔ آپ کی مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نہیں روکا۔ بلکہ آپ نے صرف یہ فرمایا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے بھائی کو (اپنی زمین) مفت دیدے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا محصول لے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمُزَارَعَةِ/حدیث: 2330]
حضرت عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے انہوں نے حضرت طاوس رحمہ اللہ سے کہا: بہتر ہے کہ تم بٹائی پر زمین دینا چھوڑ دو کیونکہ لوگوں کے بقول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بٹائی کا معاملہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت طاوس رحمہ اللہ نے جواب دیا: اے عمرو! میں لوگوں کو زمین دے کر انہیں فائدہ پہنچاتا ہوں۔ اور لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والے، یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے خبر دی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (مزارعت) سے نہیں روکا تھا بلکہ یہ فرمایا تھا: ”تم میں سے کوئی شخص زمین اپنے بھائی کو یوں ہی مفت دے دے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس کا متعین محصول وصول کرے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمُزَارَعَةِ/حدیث: 2330]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة