🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1M. بَابٌ في الشُّرْبِ، وَمَنْ رَأَى صَدَقَةَ الْمَاءِ وَهِبَتَهُ وَوَصِيَّتَهُ جَائِزَةً، مَقْسُومًا كَانَ أَوْ غَيْرَ مَقْسُومٍ:
باب: پانی کی تقسیم اور جو کہتا ہے پانی کا حصہ خیرات کرنا اور ہبہ کرنا اور اس کی وصیت کرنا جائز ہے وہ پانی بٹا ہوا ہو یا بن بٹا ہوا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2351
وَقَالَ عُثْمَانُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَكُونُ دَلْوُهُ فِيهَا كَدِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ، فَاشْتَرَاهَا عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
‏‏‏‏ اور عثمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی ہے جو بیئر رومہ (مدینہ میں ایک مشہور کنواں) کو خرید لے اور اپنا ڈول اس میں اسی طرح ڈالے جس طرح اور مسلمان ڈالیں۔ (یعنی اسے واقف کر دے) آخر عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے خریدا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ/حدیث: Q2351]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2351
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ أَصْغَرُ الْقَوْمِ، وَالْأَشْيَاخُ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ: يَا غُلَامُ، أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَهُ الْأَشْيَاخَ، قَالَ: مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِفَضْلِي مِنْكَ أَحَدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ".
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ اور پانی کا ایک پیالہ پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف ایک نوعمر لڑکا بیٹھا ہوا تھا۔ اور کچھ بڑے بوڑھے لوگ بائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لڑکے! کیا تو اجازت دے گا کہ میں پہلے یہ پیالہ بڑوں کو دے دوں۔ اس پر اس نے کہا، یا رسول اللہ! میں تو آپ کے جھوٹے میں سے اپنے حصہ کو اپنے سوا کسی کو نہیں دے سکتا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ پہلے اسی کو دے دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ/حدیث: 2351]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ پیش کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کچھ نوش فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ایک لڑکا تھا جو حاضرین میں سب سے چھوٹا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب بزرگ حضرات بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برخوردار! تم اجازت دیتے ہو کہ میں ان بزرگوں کو یہ پیالہ دے دوں؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ممکن نہیں کہ آپ کے پس خوردہ پر کسی کو ترجیح دوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ اسی کو دے دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ/حدیث: 2351]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2352
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّهَا حُلِبَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ دَاجِنٌ وَهِيَ فِي دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَشِيبَ لَبَنُهَا بِمَاءٍ مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي فِي دَارِ أَنَسٍ، فَأَعْطَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ، فَشَرِبَ مِنْهُ حَتَّى إِذَا نَزَعَ الْقَدَحَ مِنْ فِيهِ، وَعَلَى يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ عُمَرُ: وَخَافَ أَنْ يُعْطِيَهُ الْأَعْرَابِيَّ، أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدَكَ، فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّ الَّذِي عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ قَالَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گھر میں پلی ہوئی ایک بکری کا دودھ دوہا گیا، جو انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی کے گھر میں پلی تھی۔ پھر اس کے دودھ میں اس کنویں کا پانی ملا کر جو انس رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا پیالہ پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا۔ جب اپنے منہ سے پیالہ آپ نے جدا کیا تو بائیں طرف ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور دائیں طرف ایک دیہاتی تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ ڈرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پیالہ دیہاتی کو نہ دے دیں۔ اس لیے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو دے دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ اسی دیہاتی کو دیا جو آپ کی دائیں طرف تھا۔ اور فرمایا کہ دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے۔ پھر وہ جو اس کی داہنی طرف ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ/حدیث: 2352]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک گھریلو بکری کو دوہا گیا اور وہ بکری حضرت انس رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھی۔ اس میں ایک کنویں کا پانی ملایا گیا جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھا۔ پھر وہ پیالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے نوش فرمایا تاآنکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دہن (منہ) مبارک سے اسے علیحدہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ تھے اور دائیں جانب ایک دیہاتی تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس اندیشے کے پیش نظر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دیہاتی کو پیالہ دے دیں گے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! پیالہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیجیے وہ آپ کے پاس ہیں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ اعرابی کو دے دیا جو آپ کے دائیں جانب تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ» دائیں جانب والا زیادہ حقدار ہے، پھر جو اس کے دائیں جانب ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرْبِ والْمُسَاقَاةِ/حدیث: 2352]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں