سلسله احاديث صحيحه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم البانی
ترقيم فقہی
عربی
اردو
گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کرنے کا طریقہ
ترقیم الباني: 2582 ترقیم فقہی: -- 600
-" اخرجوا فإذا أتيتم أرضكم فاكسروا بيعتكم وانضحوا مكانها بهذا الماء واتخذوها مسجدا. قالوا: إن البلد بعيد والحر شديد والماء ينشف؟ فقال: مدوه من الماء، فإنه لا يزيده إلا طيبا".
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم وفد کی صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ ہماری زمین میں ہمارا ایک گرجا ہے، (ہم وہاں مسجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں اس لیے) ہم نے آپ سے آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی طلب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، وضو کیا، کلی کی اور اسے ایک برتن میں ڈال دیا اور ہمیں حکم دیتے ہوئے فرمایا: ”چلے جاؤ، جب اپنے علاقے میں پہنچو تو گرجا گھر گرا دینا، وہاں یہ پانی چھڑکنا اور وہاں مسجد تعمیر کر لینا۔“ انہوں نے کہا: ہمارا علاقہ بہت دور ہے اور شدید گرمی پڑ رہی، یہ پانی تو خشک ہو جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(راستے میں) اس میں مزید پانی ملاتے جانا، وہ اس کی پاکیزگی میں اور اضافہ کرے گا۔“ ہم نکل پڑے، حتی کہ اپنے علاقے میں پہنچ گئے، ہم نے گرجا گھر گرا دیا، وہاں پانی چھڑکا اور اسے مسجد کا روپ دے دیا، پھر ہم نے وہاں اذان دی۔ قبیلہ بنوطی کے ایک پادری نے اذان سنی اور کہا: یہ تو دعوت حق ہے۔ پھر وہ ایک ٹیلے کی طرف نکل گیا اور اس واقعہ کے بعد ہم اسے نہ دیکھ پائے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 600]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2582
ترقیم الباني: 1430 ترقیم فقہی: -- 601
-" اذهبوا بهذا الماء، فإذا قدمتم بلدكم فاكسروا بيعتكم وانضحوا مكانها من هذا الماء واتخذوا مكانها مسجدا".
قیس بن طلق اپنے باپ سیدنا طلق سے روایت کرتے ہیں کہ ہم چھ افراد وفد کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نکلے، پانچ کا تعلق قبیلہ بنوحنیفہ سے تھا اور ایک بنوضبیعہ بن ربیعہ سے تھا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا کہ ہماری زمین میں ایک گرجا گھر ہے (ہم اسے مسجد بنانا چاہتے ہیں، اس لیے) ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وضو سے بچا ہوا پانی طلب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وضو کیا اور کلی کی، پھر وہ پانی ایک برتن میں انڈیلا اور ہمیں دے دیا اور فرمایا: ”یہ پانی لے کر چلے جاؤ، جب تم اپنے ملک میں پہنچو تو گرجا گھر گرا دو، وہاں یہ پانی چھڑکو اور اس جگہ پر مسجد بنا لو۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا ملک بہت دور ہے، اس لیے پانی خشک ہو جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس میں پانی ملاتے جانا وہ اس کی اس کی پاکیزگی میں اضافہ کرے گا۔“ ہم نکل پڑے، لیکن پانی والے برتن کو اٹھانے کے بارے میں جھگڑنے لگے (یعنی کوئی دوسرے کو دینے کے لیے تیار نہیں تھا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باریاں مقرر کر دیں کہ ہر آدمی ایک رات اور ایک دن اٹھائے گا۔ پس ہم نکل پڑے، حتی کہ اپنے ملک میں پہنچ گئے، ہم نے پہنچ کر وہی کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا۔ طی قبیلے کا ایک پادری تھا، جب ہم نے اذان دی تو اس نے کہا: یہ دعوت حق ہے۔ (اس قرار کے بعد) وہ کہیں بھاگ گیا اور اس کے بعد نظر نہ آیا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 601]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 1430